
💖روح من
کچھ تو بھیجو، اپنی آواز اضطراب یا مسکان ایک پھول تھوڑا سا بھروسہ ان کہی بات یا کوئی پیغام کوئی معمولی سا اشاره "تم" يا تم جیسی کوئی شے بر طرف اداسی ہے مجھے دل کا کمرہ سجانا ہے

Yeh Len Jii

اُس کے سراپا پر نظر پڑے تو یوں لگے، جیسے جمال نے خود کو ایک پیکر میں ڈھال لیا ہو۔
اُس کی ہر ادا میں نزاکت، ہر جنبش میں وقار، اور ہر زاویے میں حسن کی ایک نئی تعبیر ہے۔
وہ سامنے ہو تو چاندنی بھی اپنی تابانی پر نظرِ ثانی کرے، اور گل بھی اپنی رنگت پر۔
اُس کا حسن ایسا بے مثال کہ تعریف کا آخری لفظ بھی اُسی پر آ کر خاموش ہو جائے۔

اُس کے سراپا میں حسن نے گویا اپنی تمام تر صناعی سمو دی ہو۔
اُس کا قد و قامت، نزاکتِ گل اور وقارِ سرو کا حسین امتزاج معلوم ہوتا ہے۔
اُس کی جبینِ تاباں سے لے کر پائے ناز تک، ہر عضو اپنی الگ داستانِ جمال رکھتا ہے۔
اُس کے چہرۂ پُرنور پر ایسی دلآویزی ہے کہ نگاہ بے اختیار ٹھہر جائے۔
اُس کی چشمِ ناز میں وہ کشش ہے کہ نظر ہٹانا بھی خلافِ مصلحتِ دل معلوم ہو۔
اُس کے لبِ شیریں پر مچلتا تبسم، گویا غنچۂ گل کی پہلی مسکان ہو۔
اُس کی زلفِ مشکیں جب شانے پر بکھرتی ہے تو حسن کو ایک نئی معنویت عطا کرتی ہے۔
اُس کی گردن کی نزاکت، صراحیِ سیمیں کی لطافت کا گمان دلاتی ہے۔
اُس کے سراپا کی شائستگی میں ایسی متانت ہے کہ جمال بھی تہذیب کا پیرہن پہن لے۔
اُس کی ہر ادا میں وہ دلربائی ہے جسے بیان کرنے سے الفاظ اپنی تنگ دامنی محسوس کریں۔
وہ حسن کی محض ایک تصویر نہیں، بلکہ نزاکت، وقار اور دلآویزی کا حسین استعارہ ہے۔
اور اگر حسن کی کوئی آخری، بے مثال اور مکمل تعبیر ہو سکتی ہے، تو شاید وہ اُسی کے سراپا پر آ کر تمام ہو۔