← Back to categories

Category

Education

KriimKhankriim (33771174) 👑 Admin

Paper coming again 😴

Paper coming again 😴
VaL♡ravalora (26455744) 🐋

Music+Papers checking☆

1. sinha Like ne like kiya! +5 Score
2. shjr Like ne like kiya! +5 Score
▄︻╦HIT═➖⭐hitler (1336329817) 🐻

🔥

🔥
1. paria Like ne like kiya! +5 Score
▄︻╦HIT═➖⭐hitler (1336329817) 🐻

🔥

🔥
Bravogirlshjr (119084047) 🐘

...yup

...yup
1. jinbaba Love ne apki post ko piyar kia! +5 Score
Bravogirlshjr (119084047) 🐘

happymian ab prh k dekho smjh ajaegi

@happymian ab prh k dekho smjh ajaegi
1. yousafshah Like ne like kiya! +5 Score
2. happymian Funny ko apki post se hasi ka dora par gya! +5 Score

ہر وقت اپنی یا اپنے کام کی بڑھ چڑھ کر تعریف کرنے والا (شیخی بگھارنے والا) شخص نفسیاتی اور سماجی طور پر ایک خاص شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایسے شخص کی شخصیت اور رویے کو درج ذیل اہم خصوصیات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:
​۱. نفسیاتی پہلو اور عدم تحفظ (Insecurity)
​اندرونی خوف: ماہرینِ نفسیات کے مطابق، جو لوگ ہر وقت اپنی بڑھائی کرتے ہیں، وہ اکثر اندر سے بہت غیر محفوظ (Insecure) ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اندر موجود کسی کمزوری، خوف یا احساسِ کمتری کو چھپانے کے لیے اس ڈھال کا سہارا لیتے ہیں۔
​توثیق کی طلب (Need for Validation): ایسے افراد کو مسلسل اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ دوسرے ان کی تعریف کریں اور انہیں اہم سمجھیں۔ ان کی خود اعتمادی بیرونی تائید پر منحصر ہوتی ہے۔
​۲. نارسیسزم (Narcissism) یا خود پسندی
​مرکزِ نگاہ بننے کی خواہش: وہ چاہتے ہیں کہ محفل کا سارا محور وہی ہوں اور ہر کوئی صرف ان کی تعریف کرے۔
​ہمدردی کی کمی: ایسے لوگ دوسروں کی کامیابیوں یا احساسات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جب کوئی دوسرا شخص بات کرتا ہے، تو وہ بات کا رخ موڑ کر واپس اپنی تعریف پر لے آتے ہیں۔
​۳. سماجی اثرات اور تعلقات
​اعتماد کا فقدان: شروع میں لوگ ایسے شخص کی باتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب حقیقت کھلتی ہے تو لوگ اس پر سے اعتماد اٹھا لیتے ہیں۔
​تنہائی: لوگ عام طور پر ایسے افراد کی شیخی اور خود ستائی سے اکتا جاتے ہیں اور ان کی صحبت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سماجی طور پر تنہا رہ جاتے ہیں۔
​خلاصہ:
ہر وقت بڑھائی بیان کرنے والا شخص دراصل اندر سے کمزور اور عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے، جو اپنی جھوٹی اہمیت جتلا کر خود کو تسلی دینا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس، حقیقت میں کامیاب اور پر اعتماد لوگوں کو اپنی تعریف خود کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ ان کے کام اور اخلاق خود ان کی گواہی دیتے ہیں۔

1. hyderali Like ne like kiya! +5 Score
KriimKhankriim (33771174) 👑 Admin

Education post on Dostana
1. ahadsoomro Like ne like kiya! +5 Score

یہ احساس اور ناامیدی اکثر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے ارد گرد غلط مثالیں، رشتوں کی تلخیاں، یا شادی کے بعد کے بے جا دباؤ اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ اگر غلط انسان کا انتخاب ہو جائے یا رشتے میں عزت اور محبت نہ رہے، تو واقعی شادی ایک بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
​تربیت، ناہم آہنگی اور صبر کی کمی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ شادی کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہیں، اسی لیے اس طرح کے خیالات کا آنا بالکل فطری ہے۔
​تاہم، اگر عملی اور جذباتی لحاظ سے دیکھا جائے تو شادی خود بیکار نہیں ہے، بلکہ اسے نبھانے کا طریقہ اور غلط انسان کا انتخاب اسے بیکار یا بہترین بناتا ہے:
​سکون اور سہارا: ایک درست اور مخلص ہمسفر کے ساتھ شادی زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ بن جاتی ہے، جہاں انسان کو ہر مشکل میں ایک مخلص دوست اور سہارا میسر ہوتا ہے۔
​سمجھداری اور ہم آہنگی: شادی صرف ایک رسم نہیں بلکہ دو مختلف شخصیتوں کے درمیان باہمی عزت، سمجھداری اور قربانی کا نام ہے۔ جہاں یہ چیزیں نہ ہوں، وہاں رشتہ بوجھ بن جاتا ہے۔
​کیا آپ کے ساتھ کوئی ایسا تلخ تجربہ ہوا ہے یا اپنے ارد گرد کے ماحول کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے؟

1. happymian Love ne apki post ko piyar kia! +5 Score

اسلام میں عورت کی شادی (نکاح) کی انتہائی اہم اور قدرو منزلت والی حیثیت ہے۔ اسلام نے نکاح کو محض ایک بوجھ یا سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک مقدس دینی، اخلاقی اور قانونی بندھن قرار دیا ہے جو محبت، سکون اور پاکدامنی پر مبنی ہے۔
​۱. اسلام میں عورت کی شادی کی حیثیت
​نصف ایمان کی تکمیل: نکاح کو دین کا آدھا حصہ قرار دیا گیا ہے جس سے انسان کی عفت اور پاکدامنی محفوظ رہتی ہے۔
​حقوق و آزادی کی ضمانت: اسلام نے عورت کو شادی کا مکمل اختیار دیا ہے۔ ولی (سرپرست) کو عورت کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
​محبت اور سکون کا ذریعہ: قرآن کے مطابق میاں بیوی کا تعلق ایک دوسرے کے لیے سکون، محبت اور رحم دلی کا باعث ہے۔
​آزادانہ معاشی و قانونی حیثیت: شادی کے بعد بھی عورت کی اپنی الگ شناختی و قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے۔ اس کا مہر، اس کا اپنا ذاتی مال ہوتا ہے جس پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
​۲. اللہ تعالیٰ کے ارشادات (قرآن مجید سے)
​سکون اور محبت کا ذریعہ:
​"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحم دلی پیدا کر دی..."
(سورۃ الروم: ۲۱)
​ایک دوسرے کا لباس:
​"وہ (تمہاری بیویوں) تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔"
(سورۃ البقرہ: ۱۸۷)
​حسنِ سلوک کا حکم:
​"اور ان (عورتوں) کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو..."
(سورۃ النساء: ۱۹)
​۳. رسول اللہ ﷺ کے فرامین (احادیثِ مبارکہ)
​عورت کی رضا مندی کی اہمیت:
​"بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری عورت کا نکاح بھی اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کیا جائے۔" صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی اجازت کیسے معلوم ہوگی؟ فرمایا: "اس کا خاموش رہ جانا ہی اس کی اجازت ہے۔"
(صحیح بخاری)
​بہترین شوہر کی پہچان:
​"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں (بیوی) کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔"
(سنن ترمذی)
​شادی کی ترغیب:
​"نکاح میری سنت ہے، اور جو میری سنت پر عمل نہ کرے اس کا مجھ سے (کامل) تعلق نہیں..."
(سنن ابن ماجہ)
​عورت سے شادی کی بنیادی ترجیح:
​"عورت سے چار چیزوں کی بناء پر نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، اس کے حسب نسب، اس کی خوبصورتی اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تم دین دار عورت کو حاصل کر کے کامیابی حاصل کرو..."
(صحیح بخاری)

1. happymian Love ne apki post ko piyar kia! +5 Score
urdu34 (51776412) 🐠

Education post on Dostana
1. dark_angel🔥 Dislike ne dislike kiya! -5000 Score 🔥 Trending Creator!
2. tmseel_ch🔥 Taliyaan ne zordaar taliyaan bajayi! +5000 Score 🔥 Trending Creator!
Bravogirlshjr (119084047) 🐘

Thora sa geyan lelo 😂

1. happymian Funny ko apki post se hasi ka dora par gya! +5 Score
Loading more posts…