
جب میں تمہیں نشاتہ محبت نا دے سکا
غم میں کبھی سکون رفاقت نا دے سکا
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تنہاء کرانے کا تمہیں کوئی حق نہیں

خاموشی سے ادا ہو یہ رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
اور ہماری تمنا کیوں کرو تم اور تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

کچھ باقی نہیں خیال میں تیرا چہرہ
آدھا یاد ہوتا ہے آدھا بھول جاتا ہے
آزقلم

سماعت ترسی جس کی آواز کو
وہ آواز میت پر مت لائی جاۓ
اس کو نا دینا مردے کی خبر
یہ بات کچھ سال چھپائی جاۓ
ہو خواہش آخر تو کیا خواہش
مجبوری ہی میں ہماری بات منائی جاۓ

وہ دروازہ جہاں تو نے ہمارے ساتھ گزرنا تھا
اب تیری یاد آنے پر اس کے پاس رہتے ہیں

کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کر آتی ہے
تیرے بندن کی جدائی بہت ستاتی ہے
تیرے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
میری سفید چمبیلی تجھے بلاتی ہے
جون ایلیاء

تم کو کیا معلوم مرنا پانا
کسی کی یاد کے ساتھ جی نا پانا