@urdu34
Jun 2026 · 1mo ago

کوئی دیکھے تو ______میرا حجرۂ ذات
یہاں سبھی کچھ وہ تھا جو تھا ہی نہیں
ایک ہی اپنا ______ملنے والا تھا🖤
ایسا بچھڑا کہ پھر ملا ہی نہیں💔

ایک مدت سے تجھے ورد میں رکھا جس نے،🍂
وہ محبت میں قلندر بھی تو ہو سکتا ہے🍂
تیرے کوچے میں جو آیا ہے غلاموں کی طرح،🍂
اپنی بستی کا سکندر بھی تو ہو سکتا ہے۔🍂
💦🍂🍁💦

*خواہش تھی________زندگی رنگ برنگی ہو*
*اتفاق دیکھیے، جتنے بھی ملے گرگٹ ہی ملے*

اتنے دشمن تو خدایا کسی دشمن کے نہ ہوں
ہاتھ جھٹکوں تو کئی کف سے نکل آئیں گے ــــــ🌸❤️

دل میں چُھپی یادوں سے سنواروں تجھ کو
جی میں آتا ہے اپنی آنکھوں میں اُتاروں تجھ کو
تیرے نام کو لبوں پہ ایسے سجایا ہے
سو بھی جاؤں تو خوابوں میں پُکاروں تجھ کو...💕🥀

خوشیاں تو ایک طرف ہیں ۔۔۔۔اے کاتب حیات۔
مجھ کو تو میرے مزاج کہ دکھ بھی نہیں ملے۔

نیند آ رہی ہوتی ہے... لیکن انگوٹھا کہتا ہے "بس ہیک ریل اور..." 😂
😜😂 موبائل دا نشہ

کبھی کبھی دل کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ کچھ بتانا نہ پڑے۔ دل چاہتا ہے یونہی کوئی سمجھ لے، سمیٹ لے اور جی بھر کے رو لینے دے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اساں یار دیـــوانے لـــوگ ھسے
ساڈے دل تے راج مـحبت دا
ساڈی ہـــر ہک گال مـحبت دی
ساڈے ســـر تے تاج مـحبت دا
ساڈا کجل، مساگ تے ســـرخی پــوڈر
ساڈا سارا ڈاج مـحبت دا
ساکـــوں شاکــــر مـــرض محبت دی
کــــر صـــرف علاج مـحبت دا

تیڈی ہاں وی مَیں، تیڈی نہ وی میں
اقرار وی میں، انکار وی مَیں
تیڈا پیار محبت نال میڈے
تیڈی نفرت دا اظہار وی مَیں
تیڈیاں نعمتاں دا حقدار وی مَیں
تیڈے غضب دا کردار وی مَیں
ہے شاکؔر گالھ عجیب جہیں
تیڈا غیر وی مَیں، تیڈا یار وی میں

نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی
اے ترکہ رب رحمان دا ہے
اوندے حکم بغیر تو بے وس ھئیں
اے فیصلہ پڑھ قرآن دا ہے
میڈے جسم تے میڈی مرضی ہے
اے وہم گمان انسان دا ہے
تیڈی روح ہے شاکر مالک دی
تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا ہے

رشتوں کی تھکاوٹ میں پہلی نشانی خاموشی ہوتی ہے__

ہکو رنگ دا کفن تے ہکو جئیاں قبراں
مر گئے انسان برابر
ہوندا فرق امیر غریب دا جگ تے
سب قبرستان برابر
گنہگار ہوساں تے دوزخ سڑساں
تیڈی میڈی جان برابر
کھڑے ہوسن شاکر محشر نوں
پکھی واس تے خان برابر

تم محسوس کرو گے ہم سے دو باتیں کر کے ہم زمانے میں زمانے سے جُدا لگتے ہیں🥀🌸

ڈھلنے لگی تھی رات کہ تم یاد آگئے
پھر یوں ہوا کہ رات بڑی دیر تک رہی

احمق لوگوں سے بحث نہ کرو، وہ تمہیں اپنے درجے پر لے آئیں گے اور پھر اپنے تجربے سے ہرا دیں گے...!!

ہمارے معاشرے میں صلح کی
بیٹھک کا مقصد کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر راضی کرنا ہے

گویا انداز شاہانا ہے امیروں جیسا
میرے اندر کا ہے انسان فقیروں جیسا
ہم نے چہرے پر سجا رکھی ہے رونق لیکن
دل کا عالم ہے ویران جزیروں جیسا
اس کے اوصاف و خصائل نے مجھے جیت لیا
میرے مریدوں میں تھا شخص وہ پیروں جیسا
اس سے پہلے تھی اسیری بھی رہائی جیسی
اب کے آزادی میں ہے حال اسیروں جیسا
اس کو گنوا کے ہیں خسارے اب تک محسن
وہ جو اک شخص تھا میرے ساتھ ہیروں جیسا__

تھام کر زلفیں تیری، آنکھوں میں ڈوب جائیں
ایک نظر دیکھو اگر، تو دل کے تار چھو جائیں
تیرِ مژگاں، نیلی آنکھیں اور یہ نتھلی کا گماں
حسن ایسا کہ جہاں دیکھ کر حیران ہو جائے

میری بے چینی تو تیرے ساتھ سے جائے گی
پھول کھلیں یا بارش آ ئے مجھ کو اس سے کیا۔

جو حال کوئی پوچھے تو کہنا پڑے گا اب
جو ہم سفر نہیں تو سفر رائیگاں ہے یہ

یُـوں بھینـچ کے رکھّـا ہـے تـری یاد کا سِــکّہ
اب کھولنا چاہوں بھی تو مُٹّھـی نہیں کھُلتـی
باہـر تـو نکل آؤں __مَـیں زنـدانِ الـم سـے
کم بخـت، مِـرے صــبر کی رسّـی نہیں کھُلتی

سارے گلاب مدہم دکھائ دیتے ہیں۔۔۔؟
نظر جب بھی تیرے چہرے کا طواف کرتی ہے؟