@urdu34
Jun 2026 · 1mo ago

جہاں منہ توڑنے کا دل کرے وہاں فقط مسکرا دینا تربیت ہے🍁🖤


میں اجڑ گیا تا کوئی گل نئی
تو جشن مناں میں راضی ہاں
♥️🥰🙃

Tali ak bar dabane sy kiun nhi lag rehi

ہم ہیں غُربت میں گزارے ہوئے ایّام جنہیں
لوگ جب تخت پہ آتے ہیں ،، بُھلا دیتے ہیں

ہم ایسے لوگ کسی شخص کو قبول کہاں
فریبی دنیا میں ہے اہلِ حق کا مُول کہاں

اگر تمہارے اردگرد چند تنکے بھی پڑے ہیں تو ان سے کسی ڈوبتی چیونٹی کےلیے پل بنا دو یہی انسانیت ہے۔

بارشوں کے موسم میں
تم کو یاد کرنے کی
عادتیں پرانی ہیں!
اب کی بار سوچا تھا
عادتیں بدل ڈالیں
پھر خیال آتا ہے
عادتیں بدلنے سے
بارشیں نہیں رکتیں!!!!

کبھی تو ایسی بھی رت بھیج موسموں کے خدا
کہ میرے گھر کا پتہ بھول جائے تنہائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

مجھ کو گر ملتی سہولت سے دوبارہ دنیا
وہ بھی جی بھر کے اُسی شخص پہ واری ہوتی❤️🥀

کبھی کبھی سب سے خوبصورت سفر وہ ہوتا ہے، جو اپنے مثبت خیالوں ساتھ آہستہ آہستہ طے کیا جائے۔ 🌿

مجھ کو گر ملتی سہولت سے دوبارہ دنیا
وہ بھی جی بھر کے اُسی شخص پہ واری ہوتی❤️🥀

بس ایک بات ہے یہی مجھ میں کمال کی
ہوتی نہیں خبر کسی کو میرے حال کی
کتنی حـدوں میں قید ہمارا ، اختیار ہے
اور کوئی حد نہیں ہے خیال وصال کی

صبر کی عادت لگ جائے تو ___
جان سے پیاری چیز بھی دل سے اتر جاتی ہے..❤️🩹🥀

بات کرنے پہ کان کھینچتے ہیں
لوگ منہ سے زبان کھینچتے ہیں
بھولنے دیتے ہی نہیں ماضی
کچھ پرانے نشان کھینچتے ہیں


تینوں 'جیون' کہہ بیٹھی آں
ویکھیں کدرے مار نہ دیویں

تنہائیوں میں سکون ہیں سائیں ۔🔥
محفلوں میں دل ٹوٹ جاتے ہیں ۔😢💔

کریں پھر سے محبتوں کی ابتدا ہم لوگ
سب رنجشیں پرانی بھلائیں تو مزہ ہے۔۔۔

کھل اتار کے چھڈیں گا
عشقا مار کے چھڈیں گا
اے گل مینوں پتہ اے یارا
ویلا سار کے چھڈیں گا
پیار دی کھیڈ انوکھی اے
جندڑی وار کے چھڈیں گا
جت سلیم نہیں لیکھ ترے
بازی ہار کے چھڈیں گا
پریا دے وچ پتہ اے مینوں
نال کھلار کے چھڈیں گا۔

تو آسمان بخت کو چھوتی ہوئی سحر
میں دشت حادثات میں غربت کی شام ہوں

اوہدی گل نوں رولیا نہیں میں
بولنا سی پر بولیا نہیں میں
پڑھ کے جو پرتایا ورقہ
فیر دوبارہ پھولیا نہیں میں
اک اک کر کے ہنجو پیتے
مونہوں کج وی بولیا نہیں میں
روون دی تھاں رج کے رویاں
ہنجواں نوں انج رولیا نہیں میں
اوہدے ولوں جہنے آئے
دکھاں نوں کدی تولیا نہیں میں
جہناں چر تک پیو سی کنڈ تے
اوہناں چر تک ڈولیا نہیں میں
سب نوں عاشق جی جی کیتا
زہر اکھراں وچ گھولیا نہیں میں