@rabeal
May 2026 · 2mo ago


کسی کی آزمائش میں اس کا سکون بنیئے، ہو سکتا ہے آپ ہی اسکی دعا کی قبولیت ہو۔

محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ خاموش لمحوں اور چھوٹے چھوٹے انداز سے جھلکتی ہے🌸♥️

کل والی قسط میں سب سے مزاحیہ بات یہ تھی، جب فیضان کہتا ہے مناہ سے کہ ماما کے جانے کے بعد اس گھر کا ہر فرد تمہاری طرف ہی دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ صرف تم ہی ہو جو اس گھر کو بچا سکتی ہو۔ 😂😂😂
پتہ نہیں کس گھر کی بات ہو رہی ہے، باپ کرپٹ، فیضان نے دوسری شادی کر لی اپنا گھر خراب کر دیا، سلمان اور ثانیہ کے اپنے مسائل۔ کبھی بھی باپ اور بیٹے ایک پیج پر نہیں آئے۔ ماں بھی اپنے شوہر کی بیوفائی کے دکھ میں چلی گئی۔ فیضان اچھی بات بھی کرتا ہے تو اس کے منہ سے اچھی بات بھی مذاق لگتی ہے۔
شکر ہے مناہ نے اس سے جان چھڑوا لی، اور جاتے جاتے who کا پروجیکٹ بھی لے گئی اور ساتھ شاہ نواز کو دھمکی بھی دی کہ اگر مجھے اس پروجیکٹ سے ہٹانے کی کوشش کی تو آپ کی reputation انٹرنیشنل لیول پر خراب ہو جائے گی۔
Very Well Played Minah ❤️
ڈراما سیریل ڈاکٹر بہو قسط نمبر 32 شجاع اسد کبریٰ خان عدیل حسین ہاجرہ یامین میرا سیٹھی
Doctor Bahu Drama Shuja Asad Kubra Khan

میں اس پھوار میں خود بھیگتی ہوں، گاتی ہوں
تمہارے بال بھگونے کی آرزو سے پرے
اور اب میں اپنی ہی موجودگی مناتی ہوں
تمہارے ہونے نہ ہونے کی آرزو سے پرے

بہترین رشتہ وہ نہیں ہوتا جو آپ کو آسمان پر لے جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو آپ کو زمین پر گرنے نہ دے اور آپ کے سکون کا ضامن بنے...!!




پھر میں نے نفرت کر لی خود سے ، اپنی رحمدلی سے ، اپنے نرم دل سے ، اپنی اس محبت سے جو مجھے ہر بار میری تذلیل بھلا کر تمہارے در تک لے آتی تھی، پھر میں نے مان لیا کہ خامی تم میں نہیں خامی تو مجھ میں تھی، مجھے کس نے کہا تھا وفا کروں؟ کس نے کہا تھا تم پہ اپنا آپ لٹا دوں؟ کس نے مجھ سے محبت کی بھیک مانگی تھی، یہ تو میں تھی جو اپنی عزت نفس اپنی انا تم پر وارے بیٹھی تھی ، تم تو بس مسکرا دیتے تھے اور میں اپنی دنیا وار دیتی تھی ، میں تمہاری ایک ادا پہ کائنات ہار دیتی تھی ، یہی تھا میرا جرم، تم سے عشق، بے پناہ عشق، جس کی سزا آج تک بھگت رہی ہوں اور تاقیامت بھگتوں گی🥺

جب آپ راحت کو چنتے ہیں تو بہت سی چیزوں سے آپ کو دستبردار ہونا پڑتا ہے۔

اپنے آپ سے نفرت کرنا آسان ہے، مگر خود کو دوبارہ قبول کرنا بہادری ہے۔ یاد رکھو اگر کسی کے چند جملے تمہیں اپنے وجود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیں تو قصور تمہارے ہونے کا نہیں، ان الفاظ کے ظلم کا ہے۔ اپنے دل کو اتنی سزا مت دو کہ کسی اور کی بے رحمی تمہاری پہچان بن جائے۔
کبھی آئینے میں خود کو دیکھ کر یہ ضرور کہنا میں اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتا ہوں، مگر میں کسی کے تلخ لہجے سے اپنی قیمت طے نہیں کروں گا۔
کیونکہ وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، مگر جو شخص اپنے آپ کو دوبارہ سنبھال لیتا ہے، وہی حقیقت میں زندگی جیت لیتا ہے۔