@mani__malik
Apr 2026 · 3mo ago

تو میرے درد کی تضحیک نہیں کر سکتا۔۔
چھوڑ دے زخم اگر ٹھیک نہیں کر سکتا۔۔
دیکھ میں جبری محبت کا نہیں ہوں قائل۔۔
سو تجھے کھینچ کے نزدیک نہیں کر سکتا۔۔
🖤🥀✨

دل کی حالت سنبھل گئی ہے اب۔
یاد آگے نکل گئی ہے اب۔۔۔
کل تو شامل تھا میری قسمت میں۔۔
میری قسمت بدل گئی ہے اب۔۔
وہ میرا حال تم سے پوچھے گا۔۔
اس سے کہنا سنبھل گئی ہے اب۔۔
ہمانشی بابرہ۔۔
🖤🥀✨

ہر ایک بھرتے زخم میں پھر سے خون آگیا۔۔
تمہاری یاد آگئی مجھے سکون آگیا۔۔۔
🖤🥀✨

لحاظ عشق نہ ہوتا تو تجھ سے رنجشیں ہوتیں۔۔۔
شکایت صرف اتنی ہے کہ تو سمجھا نہیں مجھ کو۔۔
🖤🥀✨

جب میسر تھے محبت کے سہارے کچھ دن۔۔
ہاں بڑی عیش میں گزرے تھے ہمارے کچھ دن۔۔
سچ کہا عشق میں نقصان تو دونوں کا ہوا۔۔
میری اک عمر گئ اور تمہارے کچھ دن۔۔
🖤🥀✨

ایک ہی عورت کو دنیا مان کر۔۔
اتنا گھوما ہوں کہ چکر آ گئے۔۔
نہیں آتا کسی پر دل ہمارا۔۔
وہی کشتی وہی ساحل ہمارا۔۔
🖤🥀✨

خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے۔۔
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے۔۔
ہم نہ مجنوں ہیں نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں۔۔
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے۔۔
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی۔۔
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے۔۔
اس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو۔۔
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے۔۔
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے۔۔
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے۔۔
🖤✨🥀

تیری مشکل نہ بڑھاؤں گا چلا جاؤں گا۔۔۔
اشک آنکھوں میں چھپاؤں گا چلا جاؤں گا۔۔
اپنی دہلیز پے کچھ دیر پڑا رہنے دے۔۔۔
جیسے ہی حوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا۔۔
✨🖤🥀

کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں۔۔
یہی کہیں گے کہ کچھ فائدہ حوس میں نہیں۔۔
قریبی لوگوں کی فہرست میں تو ہیں اسکی۔۔
مگر یہ دکھ ہے کہ ہم پہلے آٹھ دس میں نہیں۔۔
ہمیں عزیز ہے کردار فتح سے بڑھ کر۔۔۔
سو ہم شکست تو کھا لیں گے جھوٹی قسمیں نہیں۔
نہیں ہے فرض محبت نہ ہو سکی نہ سہی۔۔
وہ کام کرنا ہی کیوں ہے جو اپنے بس میں نہیں۔۔
✨🖤🥀

اے غمِ عشق مجھے اتنی سہولت دے دے۔۔
اور بھی کام ہیں سو تھوڑی سی فرصت دے دے۔۔
اس کی مرضی وہ تعلق کو جو صورت دے دے۔۔
ہاتھ چھوڑے میرا یا تھام کے ہمت دے دے۔۔
بے وفائی سے تیری دل تو دکھا ہے پھر بھی۔۔
یہ دعا ہے کہ خدا تجھ کو ہدایت دے دے۔۔
کاش کے تو بھی کسی شخص کی خاطر تڑپے۔۔
کاش کے رب تجھ کو بھی یکطرفہ محبت دے دے۔۔
✨🖤🥀

اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک۔۔؟
ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے۔۔۔۔؟
کوئی ٹکڑا تیری آنکھوں میں نہ چبھ جائے کہیں۔۔
دور ہو جا کہ میرے خواب کا شیشہ ٹوٹے۔۔۔۔
✨🖤🥀

پھر نہیں لگنے دی امید وفا کسی کو خود سے۔۔
کہہ دیا میں جسم مانگتا ہوں محبت سے پہلے۔۔
✨🖤🥀

آپ کیوں صاحب اسرار سمجھتے ہیں مجھے۔۔
گھر کے افراد تو بےکار سمجھتے ہیں مجھے۔۔
آپ کو میں نے کبھی غور سے دیکھا بھی نہیں۔۔
آپ بھی اپنا طلبگار سمجھتے ہیں مجھے۔۔
میرے کردار کی جو قسمیں اٹھاتے تھے کبھی۔۔
اب وہی لوگ گنہگار سمجھتے ہیں مجھے۔۔
جن کی تلقین پے میں غم میں ہنسا کرتا ہوں۔۔
جانے کیوں اب وہ اداکار سمجھتے ہیں مجھے۔۔
✨🖤🥀

ازیت ہے کہ روزوشب گھٹن محسوس ہوتی ہے۔۔
بھلے ہوں پاس میرے سب، گھٹن محسوس ہوتی ہے۔۔
گھٹن میری دیوانی ہے گھٹن کا میں دیوانہ ہوں۔۔
زمانے کو بنا مطلب گھٹن محسوس ہوتی ہے۔۔
مجھے تجھ پر نہیں خود پر بہت افسوس ہوتا ہے۔۔
تیرے ہوتے ہوئے بھی جب گھٹن محسوس ہوتی ہے۔۔
وہی جس باغ میں سب لوگ تازہ سانس لیتے ہیں۔۔
مجھے اس باغ میں بھی اب گھٹن محسوس ہوتی ہے۔۔
✨🖤🥀

ایسے وہ جانے لگا مجھ کو دلاسہ دے کر۔۔۔
جیسے بچے کو کوئی جائے کھلونا دے کر۔۔۔
کیوں پریشان رہا کرتے تھے والد میرے۔۔۔
اب محسوس ہوا گھر کا کرایہ دے کر۔۔۔
✨🖤🥀

اب بات تیری کن پے ہے کچھ کر میرے مولا۔۔
اک شخص تیرے در سے پریشاں گیا ہے۔۔

کیا غضب شخص تھا ہر بات پکڑ لیتا تھا۔۔
اک ملاقات سے اوقات پکڑ لیتا تھا۔۔
اب میرا نام بھی لینے سے وہ کرتا ہے گریز۔۔
وہ جو محفل میں میرا ہاتھ پکڑ لیتا تھا۔۔
🥀✨🖤

تمہیں حسن پر دسترس ہے، محبت محبت بڑا جانتے ہو۔۔۔
تو پھر یہ بتاؤ کہ تم اسکی آنکھوں کے بارے میں کیا جانتے ہو۔۔
یہ جغرافیہ، فلسفہ، سائیکالوجی، سائنس، ریاضی وغیرہ۔۔
یہ سب جاننا بھی اہم مگر اس کے گھر کا پتا جانتے ہو۔۔؟
🥀✨🖤

اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے۔۔
اس پے کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا۔۔
بزمِ جاناں میں نشستیں نہیں ہوتی مخصوص۔۔
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا۔۔۔
🖤🥀✨

بھلے زمانہ ہوا وہ نظر نہیں آیا۔۔
خیال ترک تعلق مگر نہیں آیا۔۔
میں آگیا ہوں ترے پاس بے خیالی میں۔۔
کسی خیال کے زیرِ اثر نہیں آیا۔۔۔
🖤🥀✨

دست تعزیر چومنے والے۔۔
ہم ہیں زنجیر چومنے والے۔۔
یہ حقیقت پسند تھوڑی ہیں۔۔
تیری تصویر چومنے والے۔۔
صرف باتیں ہی کر سکا رانجھا۔۔
لے گئے "ہیر" چومنے والے۔۔
🖤🥀✨

دستک پے ہو رہا ہے تمہارا گمان کیوں۔۔
بیٹھے ہیں ہم تو اور کسی کے مکان میں۔۔
تھوڑا سا چارہ دیکھ کے بستی کی بکریاں۔۔
غزلیں سنا رہی ہیں قسائی کی شان میں۔۔
🖤✨🥀

ہر ایک بھرتے زخم میں دوبارہ خون آگیا۔۔
تمہاری یاد آگئی مجھے سکون آگیا۔۔
🖤✨🥀

تا کہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں۔۔
میں نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہو۔۔۔
🥀✨🖤

ہمیں بننے سنورنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔۔
تیری آنکھوں کے آئینے ہمیں سندر بناتے ہیں۔۔
🖤🥀✨