@khurram_shah1
Apr 2026 · 3mo ago

یہاں الفاظ کی وقعت نہیں ہے
زمانے اب اشاروں پر چلیں گے
بھنور میں ہم تھے جن کے ساتھ
وہ کہتے تھے کناروں پر چلیں گے

کبھی سوچا نہیں تھا ہم نے ایسا
وبا کے دن بہاروں پر چلیں گے
اگر تم ساتھ چل پاؤ تو آؤ
مگر دریا کے دھاروں پر چلیں گے

تمہارے ہی اشاروں پر چلیں گے
کہو تو ہم ستاروں پر چلیں گے
خدا کے نام پر میں سچ کہوں تو
جو آرے دنیا داروں پر چلیں گے

عجیب عشق تھا جس نے نمود کرتے وقت
ہٹا دیا ہے جنوں اور بڑھا دیا ہے مجھے
شب فراق میں اس کو بھلا کے سویا تھا
پر اس نے خواب میں آ کر جگا دیا ہے مجھے

کسی کی آنکھیں سجائی تھی میرے چہرے پر
کسی کا خواب تھا لیکن دکھا دیا ہے مجھے
ملا کے خاک سمندر کے کھارے پانی میں
گھما کے چاک اچانک بنا دیا ہے مجھے

تری مہک نے ہی تیرا پتہ دیا ہے مجھے
خدا کا شکر کہ تجھ سے ملا دیا ہے مجھے
میں ایک تیر تھا اس کی کماں میں رکھا ہوا
اور اس نے یوںہی ہوا میں چلا دیا ہے مجھے

یوں نہ ہو آنکھ کھلے اور بچھڑ جائیں ہم
بس اسی خوف سے بیدار نہیں ہوتے تھے
جن دنوں خواب لٹاتی تھیں یہ آنکھیں
ان دنوں اتنے خریدار نہیں ہوتے تھے

جب تھے کم عمر سمجھ دار نہیں ہوتے تھے
ان دنوں لوگ اداکار نہیں ہوتے تھے
اب تو وہ لوگ بھی ملنے کو چلے آتے ہیں
بات کرنے کو جو تیار نہیں ہوتے تھے

پاگل کوئی اک اک سے یہی پوچھتا تھا کل
ہم سب کا ایک گھر تھا بتاؤ کدھر گیا

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

دنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ انداز نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی تو مجھ سے ملا ہو

کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو
اس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے!
جیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو

السلام علیکم

کوئی ملتا نہیں یہ بوجھ اٹھانے کے لیے
شام بے چین ہے سورج کو گرانے کے لیے
اپنے ہم زاد درختوں میں کھڑا سوچتا ہوں
میں تو آیا تھا انہیں آگ لگانے کے لیے

ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر
زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے
اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں
میری ہر سانس ترے نام لکھی ہو جیسے

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے
جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی
کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

بارش سنگ کا موسم ہے مرے شہر میں تو
تو یہ شیشے سا بدن لے کے کہاں آ گئی دوست

السلام علیکم

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست
تو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست
لوگ ہر بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں
یہ تو دنیا ہے مری جاں کئی دشمن کئی دوست

ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں

اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں