
یہاں الفاظ کی وقعت نہیں ہے
زمانے اب اشاروں پر چلیں گے
بھنور میں ہم تھے جن کے ساتھ
وہ کہتے تھے کناروں پر چلیں گے

کبھی سوچا نہیں تھا ہم نے ایسا
وبا کے دن بہاروں پر چلیں گے
اگر تم ساتھ چل پاؤ تو آؤ
مگر دریا کے دھاروں پر چلیں گے

تمہارے ہی اشاروں پر چلیں گے
کہو تو ہم ستاروں پر چلیں گے
خدا کے نام پر میں سچ کہوں تو
جو آرے دنیا داروں پر چلیں گے

عجیب عشق تھا جس نے نمود کرتے وقت
ہٹا دیا ہے جنوں اور بڑھا دیا ہے مجھے
شب فراق میں اس کو بھلا کے سویا تھا
پر اس نے خواب میں آ کر جگا دیا ہے مجھے

کسی کی آنکھیں سجائی تھی میرے چہرے پر
کسی کا خواب تھا لیکن دکھا دیا ہے مجھے
ملا کے خاک سمندر کے کھارے پانی میں
گھما کے چاک اچانک بنا دیا ہے مجھے

تری مہک نے ہی تیرا پتہ دیا ہے مجھے
خدا کا شکر کہ تجھ سے ملا دیا ہے مجھے
میں ایک تیر تھا اس کی کماں میں رکھا ہوا
اور اس نے یوںہی ہوا میں چلا دیا ہے مجھے

یوں نہ ہو آنکھ کھلے اور بچھڑ جائیں ہم
بس اسی خوف سے بیدار نہیں ہوتے تھے
جن دنوں خواب لٹاتی تھیں یہ آنکھیں
ان دنوں اتنے خریدار نہیں ہوتے تھے

جب تھے کم عمر سمجھ دار نہیں ہوتے تھے
ان دنوں لوگ اداکار نہیں ہوتے تھے
اب تو وہ لوگ بھی ملنے کو چلے آتے ہیں
بات کرنے کو جو تیار نہیں ہوتے تھے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

دنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ انداز نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی تو مجھ سے ملا ہو