@tmseel_ch🔥
May 2026 · 2mo ago


جمعہ مبارک سب کو

وہ لفظ ہی نہیں ملتے جو اندر چلتی ہوئی
سوچوں کی جنگ کو بیان کر سکیں۔۔۔

میں اُسے بُھولوں بھی تو
بُھولوں کیسے ؟
وہ تو اک خواب ھے
میں خواب کو چُھو لُوں کیسے ؟
اُس کی تصویر سے
منسوب ھیں آنکھیں میری
میں کسی اور کو دیکھوں بھی تو
دیکھوں کیسے ؟
وہ میری سوچ کے
پردے میں چُھپا بیٹھا ھے
میں کسی اور کو سوچُوں بھی تو
سوچُوں کیسے ؟


Ap ko b

وعلیکم السلام


یار صبح صبح ہی نیٹ کے کھسم مر گئے 🤣🤣


ویسے ہی دل کر رہا تھا مصباح 🤣

مصباح تھکیو 😂

سحرش میں بھی جانتی یہ خوشبو ھے میں تو اینکل کو بتا رہی یہ ہیپی میاں نہیں


ہیپی میاں لڑکی کے نام کی آئی ڈی بنائے گا نہیں 😂🤣🤔

جب پوری دنیا تمھیں چھوڑ دے۔۔۔
تب بھی ایک ذات ہے ...
جو تمھیں کبھی نہیں چھوڑتی ۔
وہ ہے ...
اللّٰہ 🫀🥹
تو پھر تم اللّٰہ کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہوں ۔۔۔۔؟؟
کس کے پیچھے بھاگ رہے ہوں ؟؟
پلٹ اؤ اپنے رب کی طرف ،،،
پلٹ اؤ ،،،
وہ اب بھی تمہارے انتظار میں ہے ۔۔۔
وہ اب بھی تُم کو چاہتا ہے ۔۔۔🍂

آخر اللہ تعالیٰ نے غار ہی کیوں چنا؟
“کبھی کبھی اللہ اپنے محبوب بندوں کو محلوں سے نکال کر غاروں میں لے جاتا ہے، کیونکہ بعض حقیقتیں شور میں نہیں، خاموشی میں سنائی دیتی ہیں۔”
اصحابِ کہف کی داستان پڑھتے ہوئے ایک سوال دل میں ضرور پیدا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کو بچانے کے لیے فرشتوں کی فوج کیوں نہ بھیجی؟
آسمان سے رزق برسا دیتے…
بادشاہ کو ہلاک کر دیتے…
یا انہیں کسی دوسرے شہر منتقل کر دیتے…
مگر اللہ نے ایک غار کا انتخاب کیا۔
کیا یہ صرف ایک اتفاق تھا؟
یا اس انتخاب کے پیچھے بھی کوئی عظیم راز پوشیدہ ہے؟
قرآن کا ہر لفظ حکمت سے بھرا ہے…
لہٰذا غار کا انتخاب بھی ایک الٰہی پیغام ہے۔
⸻
پہلا راز
غار دنیا سے فرار نہیں…
دنیا کے شور سے آزادی ہے۔
غار زمین کے اندر ایک ایسی جگہ ہے جہاں دنیا کی آوازیں مدھم ہو جاتی ہیں۔
وہاں بازار نہیں…
تعریفیں نہیں…
مقابلے نہیں…
حسد نہیں…
صرف خاموشی ہوتی ہے۔
اور جب باہر کی آوازیں خاموش ہوتی ہیں…
تب دل پہلی مرتبہ اپنے رب کی آواز سننا شروع کرتا ہے۔
اسی لیے قرآن بار بار انسان کو تفکر، تدبر اور خلوت کی دعوت دیتا ہے۔
⸻
دوسرا راز
ہر نبی نے اپنی زندگی میں “غار” کا مرحلہ گزارا
حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر تنہا گئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری قوم سے علیحدگی اختیار کی۔
رسول اللہ ﷺ نبوت سے پہلے غارِ حرا میں کئی کئی راتیں عبادت کرتے تھے۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟
ہرگز نہیں۔
گویا اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو پہلے دنیا سے الگ کرتا ہے…
پھر دنیا کی اصلاح کے لیے واپس بھیجتا ہے۔
جو تنہائی میں اللہ کو پا لیتا ہے…
وہی لوگوں کے درمیان اللہ کا پیغام پہنچا سکتا ہے۔
⸻
تیسرا راز
غار رحمِ مادر سے مشابہ ہے
ذرا غور کیجیے…
بچہ کہاں تیار ہوتا ہے؟
رحمِ مادر میں…
اندھیرا…
خاموشی…
تحفظ…
پرورش…
پھر ایک نئی دنیا میں ولادت۔
اصحابِ کہف بھی غار میں داخل ہوئے…
اور جب باہر نکلے…
تو گویا ایک نئی دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔
یہ صرف نیند نہیں تھی…
یہ روحانی ولادت تھی۔
⸻
چوتھا راز
غار انسان کے نفس کو توڑ دیتا ہے
محل انسان کے اندر تکبر پیدا کرتے ہیں۔
غار انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے۔
غار میں نہ نرم بستر ہے…
نہ شاہانہ کھانا…
نہ آرام…
وہاں صرف ایک حقیقت باقی رہتی ہے۔
“میں اللہ کا محتاج ہوں۔”
اور یہی معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔
⸻
پانچواں راز
غار انسان کو اپنی اصل یاد دلاتا ہے
انسان مٹی سے پیدا ہوا…
اور غار بھی مٹی کے اندر ہے۔
گویا اللہ تعالیٰ انسان سے کہتا ہے:
تم اپنی اصل کو نہ بھولو۔
جس مٹی سے آئے ہو…
اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
⸻
چھٹا راز
غار دل کا قبلہ بدل دیتا ہے
شہر میں انسان لوگوں کو دیکھتا ہے۔
غار میں انسان اپنے رب کو تلاش کرتا ہے۔
شہر میں نظریں باہر ہوتی ہیں…
غار میں نظریں اندر کی طرف لوٹ آتی ہیں۔
اسی لمحے تزکیۂ نفس شروع ہوتا ہے۔
⸻
ساتواں راز
غار کائنات کی سب سے بڑی عبادت گاہ بن سکتا ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور تم دیکھتے کہ سورج طلوع ہوتے وقت ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ جاتا اور غروب ہوتے وقت بائیں طرف نکل جاتا۔”
(سورۃ الکہف: 17)
یہ منظر صرف ایک جغرافیائی بیان نہیں…
بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات اللہ کے ان بندوں کی خدمت میں لگا دی گئی ہو۔
سورج…
ہوا…
وقت…
نیند…
سب اللہ کے حکم کے تابع تھے۔
جب بندہ مکمل طور پر اللہ کا ہو جاتا ہے…
تو کائنات بھی اس کے لیے اللہ کے حکم سے آسانیاں پیدا کرتی ہے۔
⸻
آٹھواں راز
اصل غار دل کے اندر ہوتا ہے
کیا ہر انسان پہاڑوں میں جا سکتا ہے؟
نہیں۔
پھر اللہ ہمیں اصحابِ کہف کی داستان کیوں سناتا ہے؟
کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے دل کے اندر غار بنائیں۔
ایسا دل…
جہاں حسد داخل نہ ہو۔
جہاں تکبر داخل نہ ہو۔
جہاں دنیا کی محبت اللہ کی محبت پر غالب نہ آئے۔
یہی مؤمن کا اصل غار ہے۔
⸻
نواں راز
غار اور جدید انسان
آج کا انسان ہزاروں لوگوں سے جڑا ہوا ہے…
لیکن اپنے رب سے کٹا ہوا ہے۔
فون مسلسل بج رہا ہے…
نوٹیفکیشن ختم نہیں ہوتے…
اسکرین بند ہوتی ہے تو دوسری اسکرین کھل جاتی ہے۔
روح کو خاموشی نصیب نہیں۔
اسی لیے جدید انسان پہلے سے زیادہ بے چین ہے۔
شاید آج ہمیں پہاڑوں کے غار نہیں…
بلکہ روزانہ چند لمحوں کی قرآنی خلوت کی ضرورت ہے۔
وہی ہماری غارِ کہف ہے۔
⸻
دسواں راز
اللہ آج بھی لوگوں کو غار میں لے جاتا ہے
کبھی بیماری کی صورت میں…
کبھی تنہائی کی صورت میں…
کبھی ناکامی کی صورت میں…
کبھی لوگوں کی بے وفائی کی صورت میں…
ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔
حالانکہ حقیقت میں…
وہ ہمیں دنیا سے نکال کر اپنی طرف بلا رہا ہوتا ہے۔
بعض غار پتھروں کے ہوتے ہیں…
اور بعض غار آزمائشوں کے۔
لیکن اگر ان کے اندر اللہ مل جائے…
تو وہ غار جنت کے باغ کا راستہ بن جاتے ہیں۔
⸻
✨ تدبر
ہوسکتا ہے…
آپ کی زندگی میں بھی اس وقت ایک “غار” ہو۔
ایسی تنہائی…
جسے آپ سزا سمجھ رہے ہیں۔
ایسی آزمائش…
جسے آپ مصیبت سمجھ رہے ہیں۔
ایسا خاموش دور…
جسے آپ ناکامی سمجھ رہے ہیں۔
ذرا رک کر سوچیں…
اگر یہی غار آپ کو اللہ کے قریب لے جانے آیا ہو تو؟
شاید آپ کی زندگی کا سب سے خوبصورت سفر بھی اسی غار سے شروع ہونے والا ہو۔
⸻
دعا
اے اللہ!
جس طرح تو نے اصحابِ کہف کو غار میں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دی، اسی طرح ہمارے دلوں کو بھی اپنی رحمت کا غار بنا دے۔ ہمیں دنیا کے فتنوں سے محفوظ رکھ، ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے آباد کر، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے لیے تنہائی بھی تیرے قرب کا ذریعہ بن جائے۔ آمین۔
⸻
مستند مراجع
* قرآن کریم، سورۃ الکہف، آیات 9–26۔
* تفسیر ابن کثیر، سورۃ الکہف۔
* تفسیر القرطبی، سورۃ الکہف۔
* تفسیر الطبری، سورۃ الکہف۔
* صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی (غارِ حرا میں رسول اللہ ﷺ کی خلوت)۔
* اس باب میں “روحانی جغرافیہ” اور “دل کے غار” کی تعبیر تدبر اور ادبی اسلوب پر مبنی ہے، نہ کہ کسی مخصوص تفسیری اصطلاح پر۔

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ وہ بغیر حُبِ مصطفیٰﷺکے اللہ کا قرب پا سکتا ہے ، وہ گمراہ اور مردود ہے۔❤

*شفیع و حاکم و مختار مان اِنکو دنیا میں*
قیامت میں یہ سب کچھ دیکھ کر مانا تو کیا مانا
*آج لے اُنکی پناء اور آج مدد مانگ اُن سے*
پھر نا مانیں گیں قیامت میں اگر مان گیا
*اُنہیںﷺ جانا اُنہیں مانا نا رکھا غیر سے کام*
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا 🌟



"اَلْحَبِيبُ ﷺ، شِفَاءُ الْقُلُوبِ"
(محبوبِ خدا ﷺ، دلوں کی شفا ہیں۔) ♥
💚 صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم 💚

غلطی ایک بار ہو جائے طعنہ عمر بھر معافی مانگ لو پھر بھی کہیں گے ہاں وہ والا کام یاد ہے؟پر میرا رب؟ میرا اللہ؟ کرید نہیں کرتا کرید کا مطلب ہے نوچنا کھولنا زخم ہرا کرنا اللہ فرماتا ہے کہہ دو اے میرے وہ بندو جہنوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں نبی کریم نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنا والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو سوچیں جو زخم تھا وہ میڈل بن گیا جاا قرض تھا انعام بن گیا قیامت کے دن اللہ فرمائے گا اے فرشتو پردہ ڈال دو اور آپ کا اعمال نامہ سفید یہ ہے کرید نہ کرنا اللہ اگر چاہتا تو کرید سکتا تھا اللہ کو سب یاد ہے وہ چاہتا تو ہر توبہ کے بعد کہتا اچھا معاف کیا پر فلاں دن فلاں کام چلو ٹھیک ہے پر وہ رات یاد ہے
پر نہیں وہ الغفور ہے بار بار معاف کرنے والا وہ الستار ہے عیب چھپانے والا وہ التواب ہے توبہ قبول کرنے والا ایک بندہ 70 بار گناہ کرے 70 بار توبہ کرے اللہ 70 بار معاف کرے گا اور 71 ویں بار بھی دروازہ کھلا ہو گا شیطان آپ کو سجدے سے نہیں روکے گا وہ آپ کو توبہ کے بعد روکے گا وہ کان میں آ کر کہے گا اب کیا فائدہ تم نے اتنے گناہ کیے اللہ تمہیں معاف نہیں کرے گا لوگ کیا کہیں گے تم منافق ہو یہ سب جھوٹ ہے اللہ کہتا ہے اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے
گناہ چھوڑ دو ندامت ہو دوبارہ نہ کرنے کا پکا ارادہ بس کوئی انٹرویو نہیں کوئی فیس نہیں کوئی سفارش نہیں ہم انسان کو کیوں کریدتے ہیں؟ کیونکہ ہمارا دل چھوٹا ہے ہماری رحمت محدود ہے ہماری یادداشت کمزور ہے اسی لیے ہم پرانی باتیں پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں پر اللہ اس کی رحمت اتنی بڑی ہے کہ سارے سمندر اس میں ڈوب جائیں گناہ کے فوراً بعد دیر مت کریں وضو کریں دو نفل پڑھیں رو لیں اللہ آسمان دنیا پر آ کر پکارتا ہے ہے کوئی معافی مانگنے والا توبہ کے بعد بار بار یہ میں نے کیا کیا تھا مت سوچیں یہ وسوسہ ہے یہ شیطان ہے اللہ نے معاف کر دیا تو آپ کون ہوتے ہیں خود کو سزا دینے والے
جس طرح اللہ آپ کا ماضی نہیں کریدتا آپ بھی کسی کا نہ کردیدیں پہلے کیسا تھا مت کہیں اب کیسا ہے وہ دیکھیں تصور کریں قیامت کا دن ہجوم گرمی ڈر اور فرشتہ آپ کا نامہ اعمال لے کر آئے وہ بلکل سفید ہو آپ پوچھیں میرے گناہ کہاں ہیں آواز آئے میرے بندے نے توبہ کی تھی میں نے وعدہ کیا تھا میں کریدوں گا نہیں معاف کر دوں گا بس یہی جیت ہے
@ یاسر احمد ✍️