@khurram_shah1
Apr 2026 · 3mo ago

Baat karni mujhe mushkil kabhi aisii to na thi
Jaisi ab hai teri mehfil kabhi aisii to na thi
Le gayaa chheen ke kaun aaj tera sabr-O-qaraar
Be-Qaraari tujhe ai dil kabhi aisii to na thi
Us kii aaNkhoN ne KHudaa jaane kiya kya jaadu
K tabi’at meri maa’il kabhi aisii to na thi
Aks-E-ruKHsaar ne kis ke hai tujhe chamkaayaa
Taab tujh meiN mah-E-kaamil kabhi aisii to na thi

عجب ہے رنگ ِ چمن، جا بجا اُداسی ہے
مہک اُداسی ہے، باد ِ صبا اُداسی ہے
نہیں نہیں، یہ بھلا کس نے کہہ دیا تم سے؟
میں ٹھیک ٹھاک ہوں، ہاں بس ذرا اُداسی ہے
میں مبتلا کبھی ہوتا نہیں اُداسی میں
میں وہ ہوں جس میں کہ خود مبتلا اُداسی ہے
طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیں
بہت جو پوچھا تو اتنا کہا، اُداسی ہے

اب محفلِ غزل میں غزل آشنا ہے کون؟
مانا کہ ایک ہم ہیں، مگر دُوسرا ہے کون؟
قاتل نے جب پُکارا کہ اہلِ وفا ہے کون؟
سب لوگ جب خموش رہے، بول اُٹھا ہے کون؟
تُم اپنی انجُمن کا ذرا جائزہ تو لو
کہنے کو تو چراغ بہت تھے، جلا ہے کون؟

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوہئ شام نہ خالی جائے
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے

بدل گئی ھے بہت مملکت مرے دِل کی
کہ آگیا ھے یہاں انقلاب یعنی تُو
ھر اِک غزل کو سمجھنے کا وقت ھے نہ دماغ
مجھے بہت ھے فقط انتخاب یعنی تُو
کبھی تو میرے اندھیروں کو روشنی دے گا
گریز کرتا ھوا ماھتاب یعنی تُو
اِدھر ھے کوہ کنِ دشتِ عشق یعنی مَیں
اُدھر ھے حُسنِ نزاکت مآب یعنی تُو

پہنچ سے دُور ۔۔ چمکتا سراب ۔۔ یعنی تُو
مجھے دکھایا گیا ایک خواب یعنی تُو
مَیں جانتا ھوں ببُول اور گلاب کے معنی
ببُول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تُو
جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا ، سو مجھے
عطا ھوا ھے مکمل نصاب یعنی تُو
کہاں یہ ذرّہء تاریک بخت یعنی مَیں
کہاں وہ نُور بھرا ماھتاب یعنی تُو

جلائے رکھا ہے میں نے بھی اک چراغِ امید
تمہارا در بھی مقفّل نہیں ہوا اب تک
مجھے تراش رہا ہے یہ کون برسوں سے
مِرا وجود مکمل نہیں ہوا اب تک
دراز دستِ تمنّا نہیں کیا میں نے
کرم تمہارا مسلسل نہیں ہوا اب تک

بیانِ حال مفصّل نہیں ہوا اب تک
جو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تک
نہیں رہا کبھی میں تیری دسترس سے دور
مِری نظر سے تُو اوجھل نہیں ہوا اب تک
بچھڑ کے تجھ سے یہ لگتا تھا ٹوٹ جاؤں گا
خدا کا شکر ہے پاگل نہیں ہوا اب تک

https://vt.tiktok.com/ZSQsfjvMP/
Tera qasoor tha ya mera qasoor par totta to dill mera tere pyar mein

دیکھ مستی وجود کی میری
تا ابد دھوم مچ گئی میری
تُو توجہ اِدھر کرے نہ کرے
کم نہ ہو گی سپردگی میری
دل مرا کب کا ہو چکا پتھر
موت تو کب کی ہو چکی میری
اب تو برباد کر چکے، یہ کہو
کیا اسی میں تھی بہتری میری؟
میرے خوش رنگ زخم دیکھتے ہو؟
یعنی پڑھتے ہو شاعری میری؟
اب تری گفتگو سے مجھ پہ کھُلا
کیوں طبیعت اداس تھی میری

ابھی تو وقت ہے سورج کے ڈوبنے میں تو پھر
یہ کیا ہوا کہ پرندے سفر سے لوٹ آئے
کسی بھی طرح یہ دنیا نہ چھوڑ پائے ہم
کہ جب بھی نکلے تری رہ_گزر سے لوٹ آئے
پھر اس نے دیکھا کوئی تارا ٹوٹتے اک رات
پھر ایک روز مسافر سفر سے لوٹ آئے
مرے گزرنے کی افواہ ہی اڑا دے کوئی
کسے خبر کہ وہ جھوٹی خبر سے لوٹ آئے

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے
عجیب خوف میں ہم اس کے در سے لوٹ آئے
نہ ایسے روئیے ناکامی_محبت پر
خوشی منائیے زندہ بھنور سے لوٹ آئے
یہ سوچتے ہوئے بیٹھے ہیں راہ میں رک کر
اُدھر تو گئے ہی نہیں تھے جدھر سے لوٹ آئے
لب اس کے سامنے تھے اور ہم نے چوما نہیں
سمجھ لو پاؤں اٹھے اور در سے لوٹ آئے

سچ نہ کہیے کہ سچ ہے صبر طلب
لوگ ہوتے ہیں اشتعال پسند
ہاں مجھے آج بھی پسند ہے وہ
اس کو کہتے ہیں لازوال پسند
حلم ہے اہلِ علم کا شیوہ
جاہ والوں کو ہے جلال پسند
وصل کو ہجر ، ناگہانی موت
ہجر کو موسمِ وصال پسند
فکرِ دنیا نہیں! مجھے
اپنی مستی اور اپنی کھال پسند

آ گیا تھا وہ خوش خصال پسند
تھی ہماری بھی کیا کمال پسند
حیف! بد صورتی رویّوں کی
ہائے دل تھا مرا جمال پسند
کیوں بنایا تھا ٹِھیکرا دل کو
کیوں کیا ساغرِ سفال پسند
ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں
لیکن اس درجہ پائمال پسند

اب کے برس دل نے تمہیں یاد بہت کیا
پر تم وہ نہیں جو لوٹ کے آیا کرتے تھے

If you can't do great things,
do small things in a great way.”

Whatever you do,
do it well

A happy soul is the best shield for a cruel world.”

محبت اب آنکھوں کے اشاروں میں چھپی ہے
کوئی خط نہیں، دل کی زبان کافی ہے

تو آیا تو لگا جیسے وقت تھم سا گیا
تیرے ہونے سے موسم کو نیا رنگ ملا

محبت اب بھی وہی ہے، بس لہجہ نیا ہوا ہے
اب آنکھیں بولتی ہیں، لفظ خاموش ہوئے ہیں

محبت وہ جذبہ ہے جو لفظوں میں نہیں سماتا،
یہ دل سے نکل کر روح میں اتر جاتا ہے۔

تو نے پوچھا محبت کیا ہے، ہم نے مسکرا کے کہا
اک درد ہے جو جینے کا بہانہ دیتا ہے
