@khurram_shah1
Apr 2026 · 3mo ago

زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

دنیا کو خبر کیا ہے مرے ذوق نظر کی
تم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو
یوں تیری نگاہوں میں اثر ڈھونڈ رہا ہوں
جیسے کہ تجھے دل کے دھڑکنے کا پتا ہو

اس درجہ محبت میں تغافل نہیں اچھا
ہم بھی جو کبھی تم سے گریزاں ہوں تو کیا ہو
ہم خاک کے ذروں میں ہیں اخترؔ بھی، گہر بھی
تم بام فلک سے، کبھی اترو تو پتا ہو

دنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ انداز نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی تو مجھ سے ملا ہو

کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو
اس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے!
جیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو

نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو

ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو
تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا
جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا
ترے نہ آنے کا سن کے بہت اداس ہوا
وہ آدمی جو ترے انتظار میں بھی نہ تھا

کچھ بات رہی ہوگی جو وہ گھر نہیں لوٹا
ساحل سے جدا ہو کے سمندر نہیں لوٹا
امید تو آنکھوں نے بہت دیر نہ چھوڑی
لیکن وہ کبھی خوش نما منظر نہیں لوٹ

السلام علیکم 😊

وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا
جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا
ترے نہ آنے کا سن کے بہت اداس ہوا
وہ آدمی جو ترے انتظار میں بھی نہ تھا

السلام علیکم

اب تم ہی کوئی شعر سناؤ
اب اور کسی شے سے دلاسہ نہیں ملنا
یوں چاہنے والے تو بہت تم کو ملیں گے
مگر کوئی دوبارہ نہیں ملنا

دعا میں یہ اثر آئے کسی دن
نجف کی خاک مل جائے کسی دن
بدن میں اس لئے بھی رہ رہے ہیں
نہ جانے کب وہ لوٹ آئے کسی دن

السلام علیکم

آنکھیں تھیں خشک خشک تو دل بھی تھا بند بند
کھل ہی نہیں رہا تھا کدھر انتظار تھا
مایوس ہونے والے نہ تھے ہم بھی
آیا نہیں تو بار دگر انتظار تھا

وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے
داغؔ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے

آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے

تصور بھی کسی کا اب مجھے دینے لگا دھوکا
ہوا جاتا ہوں میں کس پر فدا نادیدہ نادیدہ

https://vt.tiktok.com/ZSX6J3oAv/
Check my tiktok 😁😂

محبت کا سفر ہے کس قدر پیچیدہ پیچیدہ
بڑھا میرا قدم اس راہ پر لغزیدہ لغزیدہ
نہ ہو مایوس تم راہ طلب میں حوصلہ رکھو
نہ ہو گر ضبط تو رو لو مگر پوشیدہ پوشیدہ