@dhoka
Jul 2026 · 1w ago

اب تو عادت سی ہو گئی ہے مجھے
راتوں کو جاگنے کی
وہ جو نیند چھین کر گیا تھا
Iواپس کرنے نہیں آی

بوندیں جو گریں بارش کی، یونہی کچھ خیال بھیگ گئے۔🤍🥀

بوندیں جو گریں بارش کی، یونہی کچھ خیال بھیگ گئے۔🤍🥀

کچھ ایسے ڈھنگ سے رویا کہ معتبر بھی لگا
وہ ایک شخص مگر مبتلائے شَر بھی لگا
میں اتنی تنگ جگہ سے گزر کے آیا ھوں
گِھسے ہیں پاؤں بھی اور آسمان پر سَر بھی لگا
ہمارے جسم کو نوچو تمام جانب سے
اِدھر لگا چکا ھے زخم ؟ اب اِدھر بھی لگا
ہماری سِمت سے آزاد ھے سو اپنا دل
کسی کو سونپ ، کہیں پھینک یا جدھر بھی لگا

---
دل تو چاہتا ہے فریاد کروں
پر یہ سوچ کر چپ ہو جاتا ہوں
کہ جس کے لیے روؤں گا
وہی پوچھے گا "ہوا کیا ہے؟"

سب ٹھیک ہونے تک اگر میں مر گئی تو ؟ 🙂
🥀

سب سے پہلے ان لوگوں کو "نظر انداز" کرو
جن کو لگتا ہے کہ پوری دنیا ان کی دیوانی ہے!

آپ کی قدر وہ انسان کرتا ہے جو آپ سے محبت کرتا ہے، وہ نہیں جس سے آپ محبت کرتے ہو۔❤️✨️

چار دن کسی کی بھرپور توجہ پا کر ہوا میں اڑنے سے گریز کریں،
کیونکہ وہی شخص اگلے چار دن میں آپ کو زمین پہ پٹخ بھی سکتا ہے۔

وہ شرارتیں, وہ شوخیاں, میرے عہدِ طفل کے قہقہے
کہیں کھو گئے میرے رات دن, اسی بات کا تو ملال ہے

اج لفظوں نے بھی معافی مانگی لی
کہ ہم پہ اپنے درد کا بوجھ نہ ڈالو

سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع

آوازوں کے خالی پن کو خاموشی سے بھر جاتے ہیں
آدھی بات چھپانے والے آدھی عمر میں مر جاتے ہیں۔

وہ ہنس رہا تھا کہیں پر کسی کے ساتھ یونہی
میں کر رہی تھی دعاٸیں کہ بات چلتی رہے ،🥀

وفا کا وزن جاننے والے،
مطلب کے ترازو نہیں رکھتے🤎

" تم بدل گئی ہو "
ہاں، میں بدل گئی ہوں میں نے لوگوں کو زیادہ محبت، مہربانی، توجہ اور معاف کر دینا چھوڑ دیا ہے
یہ ایک بڑا سبق تھا جس کی قیمت میرے دل اور ذات نے چکائی ہے۔

جی مَیں ہُوں
اَیسی مُجَسَّم۔۔،
اَیسی بےحِس،۔۔
اَیسی چُپ....!
جَیسے کہ شَرط لَگی ہو پَتھر سے``🥀

آرزو ہے وفا کرے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
گر مرض ہو دوا کرے کوئی
مرنے والے کا کیا کرے کوئی
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا
اپنے حق میں دعا کرے کوئی
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں
میرا مطلب ادا کرے کوئی
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے
مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی
اس گلے کو گلہ نہیں کہتے
گر مزے کا گلا کرے کوئی
یہ ملی داد رنج فرقت کی
اور دل کا کہا کرے کوئی
تم سراپا ہو صورت تصویر
تم سے پھر بات کیا کرے کوئی
کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم
کیوں ہماری خطا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
اس جفا پر تمہیں تمنا ہے
کہ مری التجا کرے کوئی
منہ لگاتے ہی داغؔ اترایا
لطف ہے پھر جفا کرے کوئی
-

رَفُوگر
ذرا دھیان سے
یہ زَخم خَنجر کے نہیں
اُدھڑے ھُوئے وَعدوں کی
رُسوائی کے ھیں۔

|| تم نے سمجھا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرے دُکھ کو
تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مر جاتے ہو. ❤️🩹

دل میں رکھی باتیں آدھا دل مار دیتی ہیں
باقی کا دل، دل میں رہنے والے مار دیتے ہیں💔