← Back
🌙 ISLAMIC POETRY🔥 TRENDING 4d ago
tmseel_ch's avatar
tmseel_ch (12988113)
● Active now

چاروں طرف یہ کس نے نافے لٹا دئیے ہیں
ہوش اہلِ گلستاں کے کس نے اڑا دئیے ہیں
قصّے غمِ جہاں کے کس نے بُھلا دئیے ہیں

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
جس راہ چل دئیے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں

شاہد ہیں ہر کسی کی حالت پہ اُن کی آنکھیں
رہتی ہیں سائلوں کی حاجت پہ اُن کی آنکھیں
ہیں مہربان کتنی اُمّت پہ اُن کی آنکھیں

جب آگئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں
جلتے بجھا دئیے ہیں روتے ہنسا دئیے ہیں

مشہورِ گرمِ فتنہ بازار اِس کا کتنا
جنسِ گناہ کا ہے اَنبار اِس کا کتنا
ہر زخم حد سے گہرا ہر بار اِس کا کتنا

اِک دل ہمارا کیا ہے آزار اِس کا کتنا
تو نے تو چلتے پھرتے مردے جلا دئیے ہیں

خیرکثیر اُن کے جب دستِ گنج میں ہو
پھر یاس و بے یقینی کیوں مدح سنج میں ہو
بیمار مصطفیٰ ہو اور ششّ و پنج میں ہو ؟

اُن کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دئیے ہیں

وہ فخر فرشیوں کے وہ ناز عرشیوں کے
خاتم نبوّتوں کے ، رہبر وہ اُمّیوں کے
مظہر جمالِ حق کے ساقی وہ مستیوں کے

اِسرا میں گزرے جس دم ، بیڑے پہ قدسیوں کے
ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دئیے ہیں

بھیجا گیا نہ یونہی ہم کو تمہاری جانب
جرموں کو لا رہے ہیں رو رو تمہاری جانب
خلقِ خدا گری ہے ، یہ لو تمہاری جانب

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب
کشتی تمہی پہ چھوڑی لنگر اُٹھا دیئے ہیں

دنیا میں کوئی تیری ایسا بھی فرد ہو گا ؟
اُمّت کے واسطے جو تصویرِ درد ہو گا
جس کی فغاں سے چہرہ آتش کا زرد ہوگا

اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا ؟
رو رو کے مصطفےٰ نے دریا بہا دئیے ہیں

اَرض و سما کی حد کا رقبہ کسی نے مانگا
لوح و قلم کا اُن سے قبضہ کسی نے مانگا
اِس کائناتِ کن پر غلبہ کسی نے مانگا

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دئیے ہیں دُر بے بہا دئیے ہیں

تاجِ علومِ رازیٓ تم کو رضآ مسلم
جذبِ دلِ غزالی تم کو رضآ مسلم
اُمّت کی سربراہی تم کو رضآ مسلم

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضآ مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں

مدحِ شہِ عرب میں گویا ہیں کتنے عالم
لہرا رہا ہے کس کی فکرِ رسا کا پرچم
رازیٓ نے جو کہا ہے کہتے ہیں آج وہ ہم

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضآ مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں

#madinah #masjidnabawi #today #haram #muhammadadilattari

Post image

💬 Conversation