← Back
🎥 VLOG
6d ago

Last seen 14 minutes ago
خالی کمرے میں میرا رختِ سفر رکھا ہے
چند ارمان ہیں پوشیدہ نہاں خانے میں
کرچیاں خواب کی رکھی ہیں حفاظت سے کہیں
اور کچھ پھول چھپا رکھے ہیں انجانے میں
ڈھونڈتی پھرتی رہی روح کسی ساتھی کو
دربدر ٹھوکریں کھا تا رہا پندار میرا
اپنی مٹی سے بھی اٹھی نہیں سوندھی خوشبو
غیر کے دیس میں لٹتا رہا سنسار میرا
اجنبی آنکھوں میں مانوس وفاؤں کا چراغ
ایک امید پہ جلتا رہا گھپ راتوں میں
جسم مٹی کی طرح گھلتا رہا پانی میں
رنگ بے رنگ ہوئے جاتے تھے برساتوں میں
تیری امید پہ کھولا ہوا در رکھا ہے
خالی کمرے میں میرا رختِ سفر رکھا ہے