← Back
❤️ LOVE POETRY
3w ago

Last seen 48 minutes ago
نگاہ شوق سے کب تک مقابلہ کرتے
وہ التفات نہ کرتے تو اور کیا کرتے
یہ رسم ترک محبت بھی ہم ادا کرتے
تیرے بغیر مگر زندگی کو کیا کرتے
غرور حسن کو مانوس التجا کرتے
وہ ہم نہیں کہ جو خود داریاں فنا کرتے
کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر آ کے ہمیں
ہوئی تھی دیر نہ کچھ دل سے مشورا کرتے
یہ پوچھو حسن کو الزام دینے والوں سے
جو وہ ستم بھی نہ کرتا تو آپ کیا کرتے
ستم شعار ازل سے ہے حسن کی فطرت
جو میں وفا بھی نہ کرتا تو وہ جفا کرتے
ہمیں تو اپنی تباہی کی داد بھی نہ ملی
تری نوازش بیجا کا کیا گلا کرتے
نگاہ ناز کی معصومیت ارے توبہ
جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے
نگاہ لطف کی تسکیں کا شکریہ لیکن
متاع درد کو کس دل سے ہم جدا کرتے