← Back
🕋 RELIGION
3w ago

Last seen 2 weeks ago
جس طرح سود لینے والا مجرم اور گناہ گار ہے اسی طرح سود دینے والا اور اس میں تعاون کرنے والا بھی گناہ گار ہے اس لیے بینک کی ملازمت ناجائز ہے کیونکہ بینک کا ملازم اگر سودی لین دین میں تعاون کرتا ہے مثلا یہ معاملہ تحریر کرتا ہے یا اس کا حساب کتاب رکھتا ہے تو یہ گناہ کے کام میں شرکت اور تعاون ہے نیز اجرت میں سودی مال لیتا ہے جو حرام مال ہے اگر محض چوکیدار ہے یا جاروب کش ہے سودی معاملہ میں تعاون نہیں کرتا ہے تو اجرت مال حرام ہی سے لے گا اس لیے یہ صورت بھی پسندیدہ نہیں ہے اس سے بچنا بہتر ہے