← Back
❤️ LOVE POETRY
1mo ago

Last seen 58 minutes ago
تجھے کیوں غیر کے پہلو میں رہ کر ڈر نہیں لگتا
مجھے تیرے لیے خود سے کوئی بہتر نہیں لگتا
ہے اچھا سرد موسم میں کسی کا ہجر بھی لیکن
کفن جتنا کشادہ ہو کبھی چادر نہیں لگتا
ترے کہنے پہ گہنے لے تو آیا ہوں ترے لیکن
مِرے مذہب میں ایسے حُسن پر زیور نہیں لگتا
کوئی داو نہیں جو آزمایا ہی نہ ہو اُس نے
وہ دھوکہ گھونپ جاتا ہے اگر خنجر نہیں لگتا
سبھی سے دُشمنی پالونگا میں اُس کی محبت میں
سنا ہے اُس کے پہلو میں کسی کا ڈر نہیں لگتا
محبت کا نہ ہونا بد نصیبی کی علامت ہے
مگر اچھا وہی ہے جس کو یہ پتھر نہیں لگتا
کل اک تصویر میں دیکھا تو آنسو آ گئے امجد
تِرا شوہر کہیں سے بھی تِرا شوہر نہیں لگتا
محمد امجد