@narcissist

140973 points 6 posts

May 2026 · 2mo ago

0 Followers
1 Following
City: Karachi
Gender: Male
Age: 26 years
Star Sign: ♒ Aquarius
Points: 140973 points
Bio: Fuck social media 🙂 i am dope in real life
🌍 GENERAL 3w ago
narcissist's avatar
Last seen 3 weeks ago

ہنسی، ہنسی میں اڑائی ہیں تلخیاں کتنی...
انہیں جو شمار کرتے تو مر گئے ہوتے...
(⁠๑⁠˙⁠❥⁠˙⁠๑⁠)

1. masom.larki ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5 Score
2. tmseel_ch🔥 ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5000 Score 🔥 Trending Creator!
🌍 GENERAL 3w ago
narcissist's avatar
Last seen 3 weeks ago

Kojy log jag rhy 😁🫣

1. tmseel_ch🔥 ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5000 Score 🔥 Trending Creator!
2. masom.larki ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5 Score
3. guriya ne bhare bazar me chupair mari! ✋ -3 Score
🌍 GENERAL 3w ago
narcissist's avatar
Last seen 3 weeks ago

Yahn report option add krwana chahiye wese

1. neymar ne bhare bazar me chupair mari! ✋ -3 Score
🌍 GENERAL 3w ago
narcissist's avatar
Last seen 3 weeks ago

*‏کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اُکھڑ گئی،*
*‏کوئی اتفاق سے بچ گیا ، تو خیال تیری طرف گیا،*
*#لیاقت علی عاصم،*🙂

1. pariii77🔥 ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5000 Score 🔥 Trending Creator!
🌍 GENERAL 3w ago
narcissist's avatar
Last seen 3 weeks ago

دِل ایسے مُبتلا ہوا تیرے ملال میں 🌼
زُلفیں سفید ہو گئی چھبیس سال میں 🙌🏻🤎

1. pariii77🔥 ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5000 Score 🔥 Trending Creator!
2. ghostly_rain ne zordaar taliyaan bajayi! 👏 +5 Score
🌍 GENERAL 2mo ago
narcissist's avatar
Last seen 3 weeks ago

دیکھتے ہی دیکھتے دریا ڈوب گیا
۔
میری نگاہ کھڑکی سے واپس اسکی آنکھوں پر آئی تو وہاں ایک آنسو کو موجود پا کر ٹھٹک گئی۔ یوں لگا ساری کائنات کی گردش دھیمی ہوتے ہوتے رکنے کے قریب ہے۔ ستارے اور کہکشائیں جو نوری سالوں میں محو رفتار تھے رینگنے لگے ہیں۔ سیاروں کا گھومنا اور شہاب ثاقب کا گرنا روئی کے گالوں جیسا ہلکا ہو گیا ہے۔
۔
بس وہ ایک آنسو کشش ثقل کی تیزی کو روندتے ہوئے سفر میں ہے۔ آنکھ کنارے اٹکا آنسو اسکے جذبات کا سارا نمک سمیٹے بس کسی لمحے امنڈنے والا تھا۔ اس آخری ساعت میں جب وہ آنسو اپنے آپ میں جوبن پر تھا اور اپنے وجود میں بھر چکا تھا، میں نے دیکھا کہ میری پشت پر پھیلا سارا دریا، اس میں تیرتے ہنڈولے اور ان ہنڈولوں پر چک پھیریاں کھاتے پرندے سب سمٹ کر اس آنسو میں آ چکے ہیں۔
۔
میں اس کے آنسو میں سارا دریا دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً میرا جی چاہا کہ میں ہتھیلی پھیلا کر اس آنسو کو گرنے سے پہلے ہی تھام لوں۔ میرا جسم منظر کے سحر سے منجمد تھا اور میری خیالی ہتھیلی اس کی ٹھوڑی کے نیچے پھیل چکی تھی۔

تب دھیرے سے وہ اپنے مرکز سے ٹوٹا، اور اسکے گال پر بہتے ہوئے میری خیالی ہتھیلی سے گزر کر کافی کے کپ میں جا گرا۔
۔
آپ نے اکثر دریاؤں میں کشتیاں ڈوبتے دیکھی ہونگی، تب میں نے دریا کو ڈوبتے دیکھا۔
🙂