@zumar
Jun 2026 · 1mo ago

انا یہ ہے کہ تم کہو کہ کچھ نہیں ہو رہا، جبکہ تمہارے اندر سب کچھ بیت رہا ہو۔
ــ محمود درويش

thanks alishba

how r u all?

Some girls on create drama to seek public attention

نہ عداوتیں جدا رہیں، نہ ساتھ صبح و شام ہو،
نہ رشتہِ وفا پہ ضد، نہ یہ کہ اِذنِ عام ہو

اگر زندگی کو غیر جانبدار نگاہ سے دیکھا جائے، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کی اصل حقیقت تکلیف ہے، نہ کہ خوشی۔۔۔
آرتھر شوپنہاور

*عطر کی قدر وہی جانتا ہے جسے سونگھنے کی تمیز ہو۔*
محبت، خلوص اور جذبات کی خوشبو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس کے اندر *"احساس"* زندہ ہو۔ اگر کوئی شخص اندر سے بنجر ہو چکا ہے یا وہ آپ کی قدر کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، تو اس کے سامنے اپنی بہترین خوبیوں اور خلوص کے پھول بکھیرنا خود اپنی ذات کی توہین ہے۔
جس طرح ایک ایسا شخص جسے سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو، وہ دنیا کے مہنگے ترین عطر اور خوبصورت ترین گلاب کی خوشبو میں فرق نہیں کر پاتا، بالکل اسی طرح سنگدل اور بے حِس لوگ آپ کی تڑپ اور بے غرض محبت کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔
معاشرے میں اب وہ لوگ کھو گئے ہیں جو خوشبو (یعنی خلوص اور انسانیت) کو پہچاننے کا ذوق رکھتے تھے۔ اب اکثریت مٹی اور پتھر رہ گئے ہیں جنہیں پھولوں سے کوئی سروکار نہیں۔

جو انسان من کی تکلیف کو بتا نہیں پاتا، اُس کی گھٹن سب سے پہلے اُس کے چہرے کا نور چھینتی ہے

ہمیں مُحبت کے بارے میں نہ بتائیں، ہمارے ساتھ مُحبت والا سلوک کریں ۔۔

گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں
اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں
احمد فراز

کیوں میں امید کا دامن چھوڑوں؟
معجزے مشکلوں میں ہی تو ہوتے ہیں

ہم منتظر رہتے ہیں کہ مشکل گزر جائے گی، عمر ہی گزر جاتی ہے

آپ دیکھیں گے حویلی میں پلے لوگوں کو
آپ ہم جیسے فقیروں کو کہاں دیکھتے ہیں

خوب روتے ہیں مسکرانے کے بعد اور خیال آتا ہے-
خواب میلے ہوجاتے ہیں اشکوں کے نہ بہنے سے

زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ ہم سب اندر سے ایک جیسے ہی ہیں، تھوڑے ٹوٹے ہوئے، تھوڑے ادھورے، اور بہت زیادہ کسی ایک سچے احساس کے منتظر، مگر یہ بات ہم کبھی مانتے نہیں،
بس مسکراتے رہتے ہیں، اور وقت گزارتے رہتے ہیں

کیسے بتاؤں میں تمہیں؟
میری ہر بات میں، ہر یاد میں صرف تم ہو۔۔۔

غلط جگہ پر آپ اپنا بہترین بھی پیش کریں تب بھی وہ کافی نہیں ہوگا۔ صحیح جگہ پر آپ کا صرف موجود ہونا ہی قابل تعریف بن جاتا ہے.

راستے بھر کی رفاقت بھی بہت ہے جانِ من
ورنہ منزل پر پہنچ کر کون کس کا آشنا
احمد فراز

چلو تُم راز ہو اپنا، تُم کو افشا نہیں کرتے

وہ روز مسکراتا ہے۔۔۔
تاکہ کسی کو اُس کی زندہ لاش نظر نہ آئے۔

پھول ٹوٹ کر بھی بکھر جائیں تو راہوں کو حسین کر دیتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ آج تک صرف یہی جان پایا ہے کہ اچھا لڑکا سرکاری نوکری کرتا ہے اور اچھی لڑکی گوری ہوتی ہے۔

کتابیں پڑھا کیجیے، تاکہ۔۔۔
ہر اونچی آواز والا شخص دانشور نہ لگے،
ہر وائرل چہرہ باصلاحیت محسوس نہ ہو،
اور ہر چرب زبان انسان عالم دکھائی نہ دے۔
مطالعہ شعور عطا کرتا ہے اور شعور انسان کو اصل اور نقل میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔