
saim
(42)
دوسروں کا رویہ آپ کے کردار کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کسی نے کل آپ کا ساتھ نہیں دیا، تو ضروری نہیں کہ آج آپ بھی ویسا ہی بن جائیں۔
بدلہ لینا آسان ہے، مگر اپنے اخلاق کو قائم رکھنا بہت بڑی بات ہے۔

saim
(42)
کبھی وقت ملے تو سوچنا میں نے مانگا ہی کیا تھا تم سے تمھارے علاوہ ؟

saim
(42)
سُن کر افسوسں کہاں ہوتا ہے
جو ســــــــــــــہہ کر ہوتا ہے

saim
(42)
مصروف ہے وہ لوگ کسی اور کی محفل میں آج کل
کبھی یہی لوگ ہمیں ہر سانس کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے

saim
(42)
مرد کا گناہ وقت کے تالاب میں کنکر کی طرح ڈوب جاتا ہے جبکہ عورت کا گناہ ساری عمر کنول کے پھول کی مانند پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔

saim
(42)
لوگوں کے رویوں کا زہر چکھ کر وہیں پر تھوک دیں، ورنہ یہ زہر آہستہ آہستہ آپ کو ڈپریشن کا مریض بنا سکتا ہے۔
Loading more…