@khurram_shah1
Apr 2026 · 3mo ago

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے
اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

السلام علیکم

السلام علیکم.. صبح بخیر

کام آتی نہیں اب کوئی تدبیر ہماری
ہم سے ہے خفا صاحبو تقدیر ہماری
آتا ہی نہیں باز کبھی کار زیاں سے
پانی پہ بناتی ہے وہ تصویر ہماری

در بہ در کی خاک پیشانی پہ مل کر آئے گا
گھوم پھر کر راستہ پھر میرے ہی گھر آئے گا
سامنے آنکھوں کے پھر یخ بستہ منظر آئے گا
دھوپ جم جائے گی آنگن میں دسمبر آئے گا

تا بہ کے خواہشوں کی شعلہ زنی
یہ ہوس کی شدید لو کب تک
کچھ روانی کی انتہا تو ہو
یعنی ارزاں رہے لہو کب تک
موسم روز و شب تمام بھی ہو
یہ طلسمات رنگ و بو کب تک
پھول باتوں کے کچھ لبوں پہ کھلا
آنکھوں آنکھوں میں گفتگو کب تک

تیرا غم تیری آرزو کب تک
مجھ سے روٹھا رہے گا تو کب تک
بے ضرورت یہ ہاؤ ہو کب تک
وہ نہیں ہے تو جستجو کب تک

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا
بے لوث دوستی کا بڑا ہی مزا لیا
اک لمحۂ سکوں تو ملا تھا نصیب سے
لیکن کسی شریر صدی نے چرا لی

جو ہو سکے تو پلا دیجئے ادھار مجھے
کہ نقد پیسوں سے آتا نہیں خمار مجھے
نہ اتری حلق سے بھی آ گیا خمار مجھے
دکھائی دیتے ہیں اک اک کے چار چار مجھے
ہے میرا عشق بھی مجنوں کے عشق کی توسیع
ادھر بخار اسے ہے ادھر بخار مجھے
وظیفہ پڑھ کے میں چندے وصول کرتا ہوں
پکارتے ہیں سبھی اب وظیفہ خوار مجھے
میں داعیان کو پیسے تو دے کے آیا تھا
اٹھا نہ جلسے میں پہنانے کوئی ہار مجھ

میں نے کہا کہ آپ نے روک لیا ہے کیوں ہمیں
اس نے کہا تم ایسی بات اپنی زباں پہ لائے کیوں
تم تو ہو صرف آدمی ہم ہیں پولس کے آدمی
بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم کوئی گزر کے جائے کیوں

محبت جس کو کہتے ہیں بڑی مشکل سے ہوتی ہے
فقط اک بار ہوتی ہے خلوص دل سے ہوتی ہے
جہان فلم میں الفت کا ہر نخرا نرالا ہے
یہ ایسی دال ہے جس دال میں کالا ہی کالا ہے

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں
بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں
ہنوز سینے کی چھوٹی سی قبر خالی ہے
اگرچہ اس میں جنازے کئی اتارے ہیں
وہ کوئلے سے مرا نام لکھ چکا تو اسے
سنا ہے دیکھنے والوں نے پھول مارے ہیں

جس کا شاہوں کی نظر میں کوئی کردار نہ تھا
ایک کردار تھا کردار بھی ایسا ویسا
ایک اصرار تھا اصرار بھی بیعت کے لیے
ایک انکار تھا انکار بھی ایسا ویسا

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے
وہ حال ہے اندر سے کہ باہر ہے بیاں سے
وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں
رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

سب کا دل دار ہے دل دار بھی ایسا ویسا
اک مرا یار ہے اور یار بھی ایسا ویسا
دشمن جاں بھی نہیں کوئی برابر اس کے
اور مرا حاشیہ بردار بھی ایسا ویسا
بے تعلق ہی سہی اس کو مگر ہے مجھ سے
اک سروکار سروکار بھی ایسا ویسا

ہمارا لاشہ بہاؤ ورنہ لحد مقدس مزار ہوگی
یہ سرخ کرتا جلاؤ ورنہ بغاوتوں کا علم بنے گا
تو کیوں نہ ہم پانچ سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل
مری چھٹی حس بتا رہی ہے یہ رشتہ ٹوٹے گا غم بنے گا

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا
یہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گا
میں دشت ہوں یہ مغالطہ ہے نہ شاعرانہ مبالغہ ہے
مرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنے گا

اک میل کے پتھر کی طرح راہ ادب میں
گمنام بھی ہو کر کے خبر میں ہی رہوں میں
تو وقت کا آزر ہے تو پھر میں بھی اے ماہرؔ
پتھر ہوں ترے دست ہنر میں ہی رہوں میں

بہتر ہے کروں خود کو خرد کے بھی حوالے
کب تک دل ناداں کے اثر میں ہی رہوں میں
کیا اس کی ضمانت ہے کہ تو تو ہی رہے گا
اک عمر بھی اے دوست اگر میں ہی رہوں میں

ساحل پہ نہ آ جاؤں بھنور میں ہی رہوں میں
تا عمر ترے دیدۂ تر میں ہی رہوں میں
ہے میری ضرورت کو سفر روز ہی درکار
کہتی ہے تھکن پاؤں کی گھر میں ہی رہوں میں

بلا تو لوں میں ضیافت پہ تجھ کو گھر پہ مگر
کہ پی گیا کوئی کل شب سبھی ایاغ مرے
تجھے خبر ہی نہیں ہے مرے گلاب تری
مہک تلاشنے نکلے ہیں سارے باغ مرے
کہاں کہاں تو مجھے ڈھونڈ پائے گا
مجھے بھی ملتے نہیں اب تو کچھ سراغ مرے

تبھی تو رہ گئے چہرے پہ صرف داغ مرے
بجھا کے کوئی روانہ ہوا چراغ مرے
تمہاری کھوج کی ہوتی تھی پیش رفت جدھر
میں بھیج دیتا تھا اس سمت میں سراغ مرے

حضرت کے پیچھے ہو کے بھی منزل نہیں ملی
کہ گمرہی کا خضر کو احساس ہی نہیں
راز خرد جنوں کی حکایات خوں چکاں
سب کچھ مری غزل میں ہے بکواس ہی نہیں