@dhoka
Jul 2026 · 1w ago

سچ کو تمیز ہی نہیں ہے بولنے کی
جھوٹ دیکھو کتنا اچھا سچ بولتا ہے 🖤🥀

دل پہ اک قفل ہے کھولیں گے تو مر جائیں گے
اب اگر زخم ٹٹولیں گے تو مر جائیں گے
ہم میں جو زہر ہے وہ زہر اگلنے دو ہمیں
ہم اگر پیار سے بولیں گے تو مر جائیں گے

ایک شخص کے سلوک کی سب کو سزا ملی
ساری محبتوں سے مکرنا پڑا مجھے
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤

خدا کی راے الگ ہے مگر میں سوچتا ہوں
ہم جیسوں کا دنیا میں کوئ کام نہیں

منافقت میں درجے نہیں ہوا کرتے
سارے منافق ہی درجہ اول کے ہوتے ہیں

چہرے پر سکون دل میں قیامت لیے بیٹھے ہیں
ہم بھی اپنے اندر ایک جہان لیے بیٹھے ہیں
لوگ سمجھتے ہیں ہمیں بے فکر اور خوش حال
ہم تو ہر سانس میں اک امتحان لیے بیٹھے ہیں.

ہوئی مدت کہ تیری دید کو ترسی آنکھیں
ضبط جیسا بھی ہو کون اتنا صبر کرتا ہے
اور تیرے ہجر کے مارے ہوئے بیماروں پر
نسخہ لقمان بھی ہو ، کہاں اثر کرتا ہے ؟

*پھر یوں ہوا جو ہمیں جان کہتے تھے* ❤️🩹🥹
*وہی انجان بن گئے _____________💔😭*

دِل بُجھ جَائے تو موسَم سُہانے نہیں لگتے_🖤

اور کتـنے سلجھــے ہوئے طــریقــے سے الجھــے ہیــں ہـــم۔🙂🥀

رنگ بدلے کبھی اس شخص نے تیور بدلے۔۔۔
اس لئے عکس بنانے میں بہت دیر لگی۔۔۔

میں اپنے ہر مسئلے میں تنہا ہوں۔
مجھ سے یہ کوئی نہیں کہتا کہ "یار، میں ہوں نا" 😔

میں نے تب تب تمہارے رابطے کا انتظار کیا
مجھے جب جب دلاسے کی ضرورت تھی

دل پہ دستک ہوئی ، "اداسی ہے؟"
آئی آواز ، "جی ! اداسی ہے !!"
شہرِ دل ہے یا کوئی ویرانہ
جائیے جس گلی ، اداسی ہے !!
سن اے جبریل ! جا کے سدرہ پر
رب سے کہنا ، بڑی اداسی ہے ____!!!!

دل پہ دستک ہوئی ، "اداسی ہے؟"
آئی آواز ، "جی ! اداسی ہے !!"
شہرِ دل ہے یا کوئی ویرانہ
جائیے جس گلی ، اداسی ہے !!
سن اے جبریل ! جا کے سدرہ پر
رب سے کہنا ، بڑی اداسی ہے ____!!!!

جب کبھی پرانے موسم لوٹیں گے،
تو ہم کسی اور وقت کا حصہ ہوں گے۔🌼

ترے نصیب میں اے دل! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی ، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

اُٹھ جائیں گے محفل سے تو بیٹھے گا ترا دل
سو جائیں گے جب ہم تو تری آنکھ کُھلے گی __!!

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں
تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں
میں تم کو خود سے جدا کر کے کس طرح دیکھوں
کہ میں بھی تم ہوں، کوئی دوسرا نہیں ہوں میں
تو یہ بھی طے! کہ بچھڑ کر بھی لوگ جیتے ہیں
میں جی رہا ہوں اگرچہ جیا نہیں ہوں میں
کسی میں کوئی بڑا پن مجھے دکھائی نہ دے
خدا کا شکر کہ اتنا بڑا نہیں ہوں میں
مری اٹھان کی ہر اینٹ میں نے رکھی ہے
میں خود بنا ہوں بنایا ہوا نہیں ہوں میں
یہاں جو آئے گا وہ خود کو ہار جائے گا
قمار خانۂ جاں میں نیا نہیں ہوں میں
مرے وجود کے اندر مجھے تلاش نہ کر
کہ اس مکان میں اکثر رہا نہیں ہوں میں
میں ایک عمر سے خود کو تلاشتا ہوں مگر
مجھے یقین نہیں، ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
میں اک گمان کا امکاں ہوں افتخارؔ مغل
کہ ہو تو سکتا ہوں لیکن ہوا نہیں ہوں میں
جنابِ افتخار مغل

میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو
مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے