
کبھی کبھی ہم دل سے سچ بولتے ہیں اور سامنے والا مذاق سمجھ لیتا ہے. کبھی ہم وضاحت کرتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں "زیادہ سوچتے ہو" کبھی کبھی ہم خلوص سے رشتہ نبھاتے ہیں اور وہاں قدر ہی نہیں ہوتی. مسئلہ تم میں نہیں ہے. مسئلہ زمین کا ہے. بیچ اچھا ہے، پانی بھی سچا ہے پر پتھر پر ڈال دو گے تو پھول کہاں سے آئے گا؟
تم راتوں کو جاگ کر جس کے لیے دعا کرتے ہو شاید وہ نیند میں تمہارا نام بھی نہ لے. تم جس کے آنسو پونچھتے کے لیے خود رو پڑتے ہو شاید اسے فرق ہی نہ پڑے. تم جس رشتے کو گھر سمجھ کر سجاتے ہو وہ اسے بس س ایک کمرہ سمجھتا ہو. قصور سوچ کا نہیں ہے. قصور ایڈریس کا ہے. تم نے خط صیحح لکھا پر غلط دروازے پر ڈال دیا.
ساری توانائی ضائع مت کرو جہاں قدر نہ ہو وہاں دلیل مت دو جہاں سمجھ نہ ہو وہاں دل مت کھولو. جہاں اندھیرا ہو وہاں دِیا جلا کر خود مت جلو. صیحح سوچ کو صیحح جگہ دو. اپنے آپ کو دو. اپنے رب کو دو. ان لوگوں کو دو جو تمہاری خاموشی بھی پڑھ لیتے ہیں. یاد رکھو ہیرا کوئلے کی دکان پر بےقیمت لگتا ہے پر جوہری کے پاس جاؤ تو لاکھوں کا ہو جاتا ہے. تو اپنی قیمت کم مت کرو بس جگہ بدل دو. کیونکہ تم غلط نہیں ہو تم بس غلط جگہ صحیح ہو.
تمثیل چوھدری