
زخم کہاں کہاں سے ملے، چھوڑ دو اس بات کو
زندگی بس تو اتنا بتا، سفر کتنا باقی ہے۔
کبھی انسان اپنے زخموں کا حساب لگانے بیٹھ جائے تو شاید پوری زندگی بھی کم پڑ جائے۔
کچھ درد اپنوں کی بےرخی سے ملتے ہیں، کچھ وقت کی سختیوں سے، اور کچھ اپنی خاموشیوں کی قیمت بن جاتے ہیں۔
لیکن ہر زخم انسان کو پہلے سے زیادہ مضبوط، باہمت اور سمجھدار بنا دیتا ہے۔
زندگی کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے کہ ماضی کو سینے سے لگا کر نہیں،
بلکہ اس سے سبق لے کر آگے بڑھا جائے۔
جو گزر گیا، وہ تقدیر کا حصہ تھا، اور جو آنے والا ہے،
وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کے سائے میں ہے۔ اس لیے دل کو مایوسی کے اندھیروں میں نہیں، امید کی روشنی میں زندہ رکھنا چاہیے۔
بعض اوقات انسان تھک کر یہی سوچتا ہے کہ آخر یہ سفر کب ختم ہوگا؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ہر قدم ایک نئی آزمائش کے ساتھ ایک نئی آسانی بھی لے کر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس کی طاقت سے بڑھ کر آزمائش میں نہیں ڈالتا، اور صبر کرنے والوں کے لیے وہ ایسی راہیں کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
لہٰذا زخموں کی گنتی چھوڑ کر اپنے رب کی رحمتوں کو یاد کریں۔ زندگی کا باقی سفر شکر، صبر، دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے ساتھ طے کریں۔
یقین رکھیں، جس رب نے اب تک سنبھالا ہے، وہ آئندہ بھی تنہا نہیں چھوڑے گا، اور ایک دن ہر آنکھ کے آنسو خوشیوں میں بدل جائیں گے، انشاء اللّٰہ۔
.