
یہ بات روحانی کیفیت کو بیان کرتی ہے—کہ بندہ جب اللہ کے قریب ہو کر دعا، امید اور یقین کے ساتھ سوچتا ہے تو اللہ اپنی رحمت سے عطا فرما دیتا ہے۔
اسلام میں اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی نیت، اخلاص اور دعا کو پسند فرماتا ہے۔ قرآن میں بھی دعا اور قبولیت کا تعلق بیان ہوا ہے:
“اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ”
(مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا — سورہ غافر 40:60)
لیکن ایک بات سمجھنا ضروری ہے:
یہ “سوچتے ہی مل جانا” کوئی لازمی قانون نہیں، بلکہ اللہ کی حکمت اور رحمت پر منحصر ہے۔ کبھی اللہ فوراً عطا کرتا ہے، کبھی دیر سے، اور کبھی اس سے بہتر چیز دے دیتا ہے یا کسی مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔
اصل مقام “عشقِ الٰہی” میں یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی خواہش سے زیادہ اللہ کی رضا پر راضی ہونا سیکھ لیتا ہے۔ پھر دعا صرف مانگنے کا نام نہیں رہتی، بلکہ تعلق اور تسلیم کا نام بن جاتی ہے۔