
ارسطو کا ایک مشہور قول ہے: 'خوبصورتی وقت کی سب سے خاموش مگر سب سے بے رحم آزمائش ہے۔' انسان دولت، شہرت اور طاقت تو حاصل کر لیتا ہے، مگر وقت کے ہاتھوں کسی کو رہائی نہیں ملتی۔"
وہ چہرہ جس پر کبھی کروڑوں دل دھڑکتے تھے…وہ آواز جس پر سینما گھروں میں سیٹیاں بجتی تھیں…وہ شخصیت جسے لوگ "دبنگ" کہہ کر پکارتے تھے…آج اسی سلمان خان کی ایک جھلک نے لاکھوں مداحوں کو خاموش کر دیا ہے۔
نہ دولت کی کمی ہے، نہ شہرت کی، نہ دنیا کے بہترین ڈاکٹروں تک رسائی کی۔ گزشتہ ایک سال سے امریکہ کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں علاج کے باوجود سلمان خان کی صحت کے بارے میں تشویش کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔
اس بیماری نے دنیا بھر میں موجود ان کے چاہنے والوں کو حیرت اور افسردگی میں مبتلا کر دیا۔ بہت سے لوگوں نے پہلی نظر میں انہیں پہچانا ہی نہیں۔ وہی شخص جو برسوں تک مضبوط جسم، سکس پیک ایبس، بے مثال اعتماد اور منفرد انداز کی علامت تھا آج پہلے سے کہیں زیادہ کمزور اور تھکا ہوا دکھائی دیا۔
1988 میں اپنے فلمی سفر کا آغاز کرنے والے سلمان خان نے کئی دہائیوں تک بالی ووڈ پر حکمرانی کی۔ ایک کے بعد ایک سپر ہٹ فلم، بے شمار ریکارڈز اور لاکھوں مداح… لیکن وقت کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا۔
جوانی ہمیشہ ساتھ نہیں رہتی۔ وقت آہستہ آہستہ ہر چہرے سے اس کی چمک، ہر جسم سے اس کی طاقت اور ہر انسان سے اس کی توانائی واپس لے لیتا ہے۔ یہی زندگی کا قانون ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس سے کوئی بھی فرار حاصل نہیں کر سکتا۔
لیکن اہم سوال بیماری نہیں…
اہم سوال یہ ہے کہ ہم وقت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟
ایک دن ہم خود بھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہی سوال کریں گے:
"کیا یہ واقعی میں ہوں… یا وقت کی لکھی ہوئی ایک نئی کہانی؟"...