← Back
📜 URDU GHAZAL
1w ago

Last seen 22 minutes ago
غزل
برسنے کو جو یہ بادل گِھرے ہیں
پرانے زخم دل کے پھر ہرے ہیں
عجب اِک دشتِ تنہائی ہے دل میں
اکیلے ہم انسان، دکھ بڑے ہیں
خزاں کی زد میں آئے بخت اپنے
جو پھولِ آرزو تھے، سب جھڑے ہیں
ہوائیں چھیڑتی ہیں پھر فسانہ
کہ خشک پتے شجر سے گر پڑے ہیں
یہ بارش اور تری یادوں کے موسم
سلمہ ہماری جان لینے پر اڑے ہیں
✒️