← Back
📖 LITERATURE
1w ago

Last seen 1 hour ago
فضا میں پرندوں کی چہکار کیا تھی
کہانی سی دریا کے اُس پار کیا تھی
اچانک نکل آیا بستی میں سورج
میری آرزوؤں کی رفتار کیا تھی
جو اقرار کی سب حدیں مٹ گئیں تھیں
شبِ وصل وہ طرزِ انکار کیا تھی
منانا پڑا فتح کا جشن مجھ کو
میری جیت کیاتھی میری ہار کیا تھی
ہمیشہ مجھے ہجر میں اُس نے رکھا
نہ جانے محبت کی مہکار کیا تھی
بھرے شہر میں رہ گیا وہ اکیلا
یہ لڑکی کسی کی طرف دار کیا تھی
کبھی تیرے سپنے میسر نہ آئے
میرے ساتھ شب ہائے بیدار کیا تھی
کوئی درد تھا یا سندیسہ تھا کوئی
اُن انکھوں میں اشکوں بھری دھار کیا تھی
کبھی مجھ پہ کُھل جا اے صبحِِ گریزاں
بتا رت جگوں کی وہ تکرار کیا تھی
صدف میں کبھی خود سے ملنے نہ پائی
میرے درمیاں کوئی دیوار کیا تھی
رقیب آئے میری عیادت کی خاطر
یہ صغرا صدف تیری بیمار کیا تھی