← Back
🥺 SAD POETRY
1w ago

● Active now
اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے
تو کہاں ہے مجھے تنہا کر کے
میں تو ارزاں تھا خدا کی مانند
کون گزرا مرا سودا کر کے
تیرگی ٹوٹ پڑی ہے مجھ پر
میں پشیماں ہوں اجالا کر کے
لے گیا چھین کے آنکھیں میری
مجھ سے کیوں وعدۂ فردا کر کے
لو ارادوں کی بڑھا دی شب نے
دن گیا جب مجھے پسپا کر کے
کاش یہ آئینۂ ہجر و وصال
ٹوٹ جائے مجھے اندھا کر کے
ہر طرف سچ کی دہائی ہے نصیرؔ
شعر لکھتے رہو سچا کر کے