
✨ قرآنِ پاک کی خوبصورت اور فکر انگیز آیات ✨
ہم روزانہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں، اگر ہم ٹھہر کر اس کے الفاظ پر غور کریں تو،،،،،،
سورہ الواقعہ میں ربِ ذوالجلال نے دو قسم کے سایوں کا ذکر فرما کر ہمیں دو بالکل الگ راستوں اور ان کے انجام کی جھلک دکھائی ہے💫
🌸 ۱۔ وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ (پھیلا ہوا سایہ) 🌸
(سورہ الواقعہ: ۳۰)
یہ جنت والوں (اصحاب الیمین) کا سایہ ہے!
ایک ایسا گھنا، ابدی اور روح پرور سایہ جو کبھی ختم نہیں ہوگا، جہاں نہ دھوپ کی تپش ہوگی، نہ تھکن اور نہ کوئی غم۔
یہ اللہ کی رضا اور رحمت کی ٹھنڈک ہے🍀
۔
🔥 ۲۔ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ (سیاہ دھوئیں کا سایہ) 🔥
"وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ۞ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ"
(سورہ الواقعہ: ۴۳-۴۴)
"اور کالے دھوئیں کے سائے میں۔ جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ خوشنما۔"
یہ جہنم والوں (اصحاب الشمال) کا سایہ ہے!
یہ سایہ راحت کے لیے نہیں، بلکہ دم گھٹانے
اور عذاب بڑھانے
کے لیے ہے😢
تپتا ہوا کالا دھواں، جو نہ تپش کم کرے گا اور نہ ہی کوئی سکون دے گا۔(واللہ المستعان)