
رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:
“مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنے دن ٹھہر جائے کہ اسے تنگ کر ڈالے۔”
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۱۳۵
اس حدیث میں رسول اللّٰه ﷺ نے مہمان کو اپنے میزبان کی سہولت، حالات اور استطاعت کا خیال رکھنے کی تعلیم دی ہے، یعنی مہمان کو کسی کے گھر اتنے طویل عرصے تک نہیں ٹھہرنا چاہیے کہ میزبان اس کی خدمت، کھانے پینے یا رہائش کے انتظام کی وجہ سے پریشانی اور تنگی میں مبتلا ہو جائے، کیونکہ اسلام جس طرح میزبان کو مہمان کی عزت اور خدمت کرنے کا حکم دیتا ہے اسی طرح مہمان کو بھی میزبان کے حقوق اور آرام کا خیال رکھنے کی ہدایت کرتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مہمان کو اپنے قیام میں اعتدال اختیار کرنا چاہیے اور میزبان کی خوشی اور اجازت کے بغیر زیادہ دن نہیں ٹھہرنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی رشتہ دار یا دوست کے گھر مہمان بن کر جائے اور اسے محسوس ہو کہ اس کے زیادہ دن ٹھہرنے کی وجہ سے میزبان کے اخراجات بڑھ رہے ہیں یا اس کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں تو اسے مناسب وقت پر رخصت ہو جانا چاہیے، یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مہمان نوازی باہمی محبت، احترام اور حسنِ اخلاق کا نام ہے، اس لیے میزبان کو خوش دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہیے اور مہمان کو بھی ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جس سے میزبان کسی مشکل یا تنگی میں مبتلا نہ ہو ۔ ۔ ۔