
بخار: تکلیف یا رحمت؟ 💫
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"بخار کو برا نہ کہو، کیونکہ یہ گناہوں کو ایسے دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ صاف کرتی ہے۔"
یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک صحابیہ ام السائب (یا ام المسیب) کے پاس تشریف لے گئے، وہ بخار کی شدت سے کانپ رہی تھیں۔ جب انہوں نے بخار کو برا بھلا کہا، تو آپ ﷺ نے انہیں منع فرمایا اور یہ خوبصورت تسلی دی کہ ظاہری طور پر تکلیف نظر آنے والی یہ بیماری دراصل انسان کے گناہوں کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہے۔
(2575صحیح مسلم)
بیماری بظاہر ایک آزمائش ہے، لیکن حقیقت میں یہ مومن کے لیے گناہوں کی معافی اور اللہ کی رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
🌸 شکوہ کرنے کے بجائے صبر کا دامن تھامیں۔
🌸 ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں۔
🌸 شفا کے ساتھ ساتھ گناہوں کی مغفرت کی دعا کریں۔