← Back
🥺 SAD POETRY
2w ago

● Active now
سوچتے تھے درد کو درد آشنا لے جائے گا
کیا خبر تھی چھین کر وہ حوصلہ لے جائے گا
مجھ کو تنہا چاہتا ہے اور تنہا اس قدر
ملنے آئے گا تو میرا آئینہ لے جائے گا
ساتھ کب دیں گے ہمارا سائے جیسے آدمی
روشنی کو جب درندہ رات کا لے جائے گا
کب تلک روکے رکھیں گے ہم روانی کرب کی
اک نہ اک دن لاش کو دریا بہا لے جائے گا
باندھتا رہ جائے گا اک بھگت مندر ڈوریاں
اور اس کی پریمکا کو دیوتا لے جائے گا
کیا خبر تھے شاہ زادے دیکھتے رہ جائیں
اور ہونے والی ملکہ گڈریا لے جائے گا
ہائے وہ دن شاعری کے سوچتے تھے ہم زنیق
اس گِلِ خوش تک ہمیں اک قافیہ لے جائے گا
تمثیل چوھدری