← Back
🌍 GENERAL
2w ago

Last seen 4 days ago
دروازۂ جاں سے ہو کر
چپکے سے ادھر آ جاؤ
اس برف بھری بوری کو
پیچھے کی طرف سرکاؤ
ہر گھاؤ پہ بوسے چھڑکو
ہر زخم کو تم سہلاؤ
میں تاروں کی اس شب کو
تقسیم کروں یوں سب کو
جاگیر ہو جیسے میری
یہ عرض نہ تم ٹھکراؤ
چپکے سے ادھر آ جاؤ