← Back
🥺 SAD POETRY
2w ago

● Active now
مری چشمِ تَر میں نہ رہ سکے مری آبجُو سے اتر گئے
کئی لوگ تھے جنہیں آخری دفَعہ رو لیا سو وه مر گئے
کسی آنجہانی کی یاد ہوں جو پڑی ہے بَكس میں تِہ بہ تِہ
میں لباسِ کُہنہ و خام ہوں مجھے رکھنے والے گزر گئے
جو اُچھالتے نہ تھے خامیاں وه جو لوگ تھے مرا آئینہ
مرے مُخلِصین کو کیا ہوا مرے رُو شناس کدھر گئے
ہوئی شب تو خُنکی بھی بڑھ گئی سو ترے خطوط جلا لیے
ابھی راکھ پوری بنی نہ تھی کہ ہوا میں ذرّے بکھر گئے
تمثیل چوھدری