
حضرت علیؓ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کا ایک اور خوبصورت واقعہ
مولا علی کو " ابو تراب " کیوں کہتے ہیں
ایک دن رسول اللہ ﷺ حضرت علیؓ کے گھر تشریف لائے۔ حضرت علیؓ گھر میں موجود نہ تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ سے ان کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی وجہ سے باہر چلے گئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ انہیں تلاش کرتے ہوئے مسجد پہنچے تو دیکھا کہ حضرت علیؓ مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے ہیں، ان کی چادر ایک طرف ہٹ گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔
آپ ﷺ خود ان کے قریب بیٹھ گئے، اپنے مبارک ہاتھ سے ان کے جسم سے مٹی جھاڑنے لگے اور نہایت محبت بھرے انداز میں فرمایا:
"قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ"
ترجمہ: "اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو۔"
یہ لقب "ابو تراب" رسول اللہ ﷺ نے محبت سے حضرت علیؓ کو عطا فرمایا، اور حضرت علیؓ کو یہ لقب دنیا کے ہر لقب سے زیادہ محبوب تھا، کیونکہ یہ انہیں اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے ملا تھا.