← Back
🖋️ DEEP LINES
2w ago

● Active now
عقلمند اور دانا بننے کے لیے پہلے جوان اور ناسمجھ ہونا پڑتا ہے۔
زندگی کے سبق کتابوں سے نہیں، بلکہ غلطیوں، ناکامیوں اور ٹھوکروں سے ملتے ہیں۔ جوانی میں ہم جلدی فیصلے کرتے ہیں، بار بار گرتے ہیں، اور بعض اوقات وہی غلطیاں دہراتے ہیں، لیکن یہی تجربات ہمیں سمجھدار بناتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر ٹھوکر ایک سبق ہے، اور ہر غلطی ہمیں تھوڑا زیادہ دانا بنا دیتی ہے۔ یہی سفر آخرکار نادانی کو دانائی میں بدل دیتا ہے۔