← Back
🥺 SAD POETRY
3w ago

Last seen 41 minutes ago
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
کس نگری میں آ نکلے ہیں تمثیل ہم دیوانے لوگ
ایک ہمی ناواقف ٹھہرے روپ نگر کی گلیوں سے
بھیس بدل کر ملنے والے سب جانے پہچانے لوگ
دن کو رات کہیں سو برحق صبح کو شام کہیں سو خوب
آپ کی بات کا کہنا ہی کیا ________ آپ ہوئے فرزانے لوگ
شکوہ کیا اور کیسی شکایت ______ آخر کچھ بنیاد تو ہو
تم پر میرا حق ہی کیا ہے ________ تم ٹھہرے بیگانے لوگ
شہر کہاں خالی رہتا ہے _ یہ دریا ہر دم بہتا ہے
اور بہت سے مل جائیں گے ہم ایسے دیوانے لوگ
سنا ہے اس کے عہد وفا میں ہوا بھی مفت نہیں ملتی
ان گلیوں میں ہر ہر سانس پہ بھرتے ہیں جرمانے لوگ
کــــشف