
"جنت میں تجلیات الہیہ کا دیدار "
حضرت جریر بن عبداللہؓ نے بیان کیا:
ہم لوگ ایک رات نبی اکرمﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے،
کہ آپﷺ نے چاند کی طرف دیکھا ، یہ چودھویں رات کا مکمل چاند تھا۔
آپﷺ نے فرمایا:
بیشک تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے ، جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو!
اس کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت نہیں اٹھانی پڑتی ( کوئی دھکم پیل نہیں ہوتی) اسی طرح بڑے اطمینان سے تم لوگ جنت میں اللہ تعالی کی تجلیات کو دیکھو گے ، جو دیدار الہی ہوگا۔
لہذا اگر تم اپنی بھر پور استطاعت کے ساتھ یہ کام کرو کہ سورج نکلنے سے پہلے ( فجر کی نماز ) اور سورج ڈوبنے سے پہلے ( عصر کی نماز نہ چھوڑو ( یعنی قضاء نہ ہونے دو )
تمام فرض نمازوں کو وقت پر ادا کرنا ضروری ہے، لیکن یہ دو نمازیں خاص اہمیت کی حامل ہیں جن کی اس حدیث میں تاکید کی گئی ہے۔
"مفہوم حدیث:۴ ۳۷، باب قولہ وسبح بحمد ربک سورۃ ق ، کتاب التفسیر صحیح البخاری"