@xcorpio
Apr 2026 · 3mo ago

کیلا کھانے سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
اور کیلے کے چھلکے پر پاؤں رکھنے سے
ہڈیاں ٹوٹ بھی جاتی ہیں

اے موسم اتنا حسین نہ ہوا کر
ہر کسی کے پاس پکوڑے بنانی والی نہیں ہوتی

جس کو ہم ایک آنکھ نہیں بھاتے
وہ دوسری آنکھ سے کوشش کریں
ہو سکتا ہے فرق محسوس ہو

سوچا بہت کہ سدھر جاٶ
پھر خیال آیا دفع کرو
کون سا کسی نے یقین کرنا ہے

پوچھنا یہ تھا کہ اگر انسان رات کو نہ سوئے تو کیا
پھر بھی صبح اٹھ کر منہ دھونا ضروری ہوتا ہے

گھر میں جو سب سے چھوٹے ہوتے ہیں نا
ان کی آدھی زندگی تو گیٹ کھولنے بند کرنے موٹر بند کرنے اور پانی پلانے میں ہی چلی جاتی ہے

زمیں نکل گئی پاؤں تلے سے
جب دیکھا وہ میرے خطوں پر پکوڑے رکھ کر کھا رھی تھی

یہ جو ساری رات مچھروں کی وجہ سے سو نہیں پاتے
صبح اٹھ کر اسٹیٹس لگا رہے ہوتے ہیں
کسی کی یادوں نے سونے نہ دیا

کل شام غلطی سے چھوٹی بہن کی آئس کریم کھا لی تھی اب رات سے وہ واٹس ایپ پر بہن کا حق کھانے والوں کا انجام والے سٹیٹس لگائی جا رہی

ایک گھنٹے میں لائٹ اتنی بار آئی اور گئی ہے
کہ پنکھا خود بھی بھول گیا ہے کہ میں دائیں گھومنا ہے یا بائیں

جب کوئی پانی پینے کولر کے پاس جاتا ہے
تو باقی سب کو پیاس کیوں لگ جاتی ہے

یہ جو کہتے ہیں نا
فلک تک چل ساتھ میرے
خود پیٹرول ختم ہونے پر بائیک گھسیٹتے ہوئے گھر لاتے ہیں
وڈے آئے عاشق

شادی پر دولہے نے دولہن کو گلاب کا پھول دیا
دولہن مجھے یہ نہیں چاہیے کوئی سونے کی چیز دو
دولہا یہ لو تکیہ اور سو جاو

خود کو بیکار مت سمجیں
آپ کا ایک گردہ مجھے
سیب والا فون دلا سکتا ہے

میرا بھی وقت بدلے گا
بس گھڑی میں سیل ڈالنے کی دیر ہے

بہت سے نوجوان شادی سے ڈرتے ہیں
کہ بیگم برتن دھلائے گی
او پاگلو دس منٹ لگتے ہیں برتن دھل جاتے ہیں

دل تو میں کسی کا بھی چرا لوں
پر امی کہتی ہیں چوری کرنا بری بات ہے

مجھے اپنے پنکھے تک کی ہوا نہیں لگتی
گھر والے سوچتے ہیں اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے

ہم اس ملک میں رہتے ہیں
جہاں بات کرتے ہوئے لائٹ آ جائے
تو بات سچ ہے
اگر لائٹ چلی جائے تو بات جھوٹی سمجھی جاتی ہے

ہمارے گھر میں صبح صبح گڈ مارننگ نہیں بولتے
بس کمرے کا پنکھا بند کر کے چلے جاتے ہیں

میں ابھی دکھی شاعری کرنے ہی والا تھا
پھر مجھے یاد آیا میری تو صلح ہو گئی ہے

شادی سے ڈر نہیں لگتا
اپنی جیسی اولاد سے ڈر لگتا ہے

کیوں ناراض ہوتے ہو چلے جاتے ہیں تمھاری محفل سے
اپنے حصے کے دو سموسے تو اٹھانے دو

شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو
جو بسوں کی سیٹوں پہ لڑکیوں کے نمبرز لکھ جاتے ہیں
میں نے کتنی بار کال کی سب بند تھے

اس مہنگائی نے ہم سنگل لوگوں کنواروں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گھر والے یہی کہتے ہیں مہنگائی بہت ہے اگلے سال شادی کریں گے