@rano
May 2026 · 2mo ago

جانتے ہیں حب کسے کہتے ہیں ؟
جب کوئی اپنا سیاہ سے سیاہ رخ اس ڈر کے بغیر آپ کے سامنے
کھول کر رکھ دے کہ آپ نا تو اُسے دھتکاریں گے اور ناہی طعنہ بازی کریں گے
جب کوئی بچوں کی طرح آپ کے سامنے اونچا اونچا رو لے،
یا پھر پاگلوں والی کوئی بات کر کے ہنس لے

دنیا کا کوئی بھی دلکش انسان، کوئی بھی پسندیدہ کیفے، کوئی بھی پھول یا اس کی خوشبو، کوئی بھی قیمتی چیز یا کوئی بھی حسین منظر مجھ سے کبھی تمہاری توجہ نہیں چھین سکا

دو کپ ہوں،
ایک تمہارا ایک میرا
مگر ذائقہ دونوں کا ایک سا ہو
تم ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھو
چینی کم تو نہیں
اور میں کہوں
تم ساتھ ہو تو سب میٹھا ہے

نہیں ممکن کہ ہر احسان اتارا جائے
آپ خوشبو کے عوض پھول کو کیا دیتے ہیں

سُنو تخیل اُمّید
بہارِ دِلِ مَن
"""چاند کی روشنی"""
اَے نِگارِ دِلرُبائی!!!!!!!!
اگر میری تقدیر میں بکھر جانا ہی لکھا ہو
تو میری پہلی اور آخری دعا یہی ہوگی کہ میری ہر شکست تمہاری ایک مسکراہٹ میں ڈھل جائے۔
اگر میری محبت کا انجام فراق ہو
تو بھی میری روح کی ہر دعا تمہارے گرد حصار بن کر رہے۔
میری ہر ادھوری خواہش تمہاری ہر مکمل خوشی پر قربان ہو جائے
اور میرا ہر آنسو تمہاری پلکوں تک پہنچنے سے پہلے موتی بن کر زمین میں جذب ہو جائے۔
میں تمہیں پانے کی نہیں
تم پر فنا ہو جانے کی آرزو رکھتا ہوں کیونکہ
بعض عشق وصال سے نہیں
ایثار سے امر ہوتے ہیں
اور بعض محبتیں دل میں نہیں
روح کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے سجدہ ریز رہتی ہیں!!!!!!!

مُحبت جلد یا بدیر سب کے نصیب میں لِکھی ہُوئی ہوتی ہے لیکن " مُحبت کے سُکھ " محض چند بُلند بخت والوں کے حِصے میں ہی آتے ہیں

تمہیں خوشبو پسند ہے؟
"ہاں بہت زیادہ"
کون سے برینڈ کی؟
"برینڈ کیا ہوتا ہے؟"
مجھے تو وہ خوشبوئیں پسند ہیں جو دل میں اتر جائیں
جیسے کہ
پہلی بارش کے بعد بھیگی مٹی کی خوشبو
کچے گھروں کی دیواروں سے اٹھتی اپنائیت کی خوشبو
چائے کی پتی سے نکلتی صبح کی خوشبو
کتابوں کے پرانے ورقوں میں بسی یادوں کی خوشبو
اور بزرگوں کے دوپٹوں میں رچی دعاؤں کی خوشبو
مجھے وہ خوشبوئیں پسند ہیں جن کا تعلق بازاروں سے نہیں
رشتوں سے ہوتا ہے
جو سیدھا روح تک پہنچتی ہیں

جب آپ چاند کو دیکھ کر اس کی چاندنی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں عین اُسی لمحے منفی سوچ رکھنے والے لوگ آپ کے سامنےچاند میں داغ کی باتیں کرنے لگتے ہیں

نہ قید میں لیتا ہے نہ وہ رہائی دیتا ہے
اک شخص مجھے ہر جگہ دکھائی دیتا ہے

ایک ایسے غم شناس کی حسرت رہی مجھے
جو میرے ساتھ روئے مجھے حوصلہ نہ دے.

آؤ ۔۔۔۔ ہاتھ پکڑو۔۔!! کہ آج چاند پر ٹہل آئیں
نا مکمل خواب کے لئے زمیں اب چھوٹی لگتی ہے۔۔!

"تمہت تو لگتی رہی روز نئی نئی ہم پر مگر
جو سب سے حسین الزام تھا، وہ تیرا نام تھا

اسے ہم یاد آتے ہے بس فرصت کے لمحوں میں
مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ اسے فرصت نہیں ملتی

Alishba take care