@qamar_ansari
May 2026 · 2mo ago

کچے مکان دیکھ کر کسی سے رشتہ مت توڑنا میرا تجربہ ہے کہ مٹی کی پکڑ مضبُوط ہوتی ہے کیونکہ سنگِ مر مر پہ ہم نے اکثر پیر پِھسلتے دیکھا ہے 🥹

لـوگـوں کـی سازشـیں آپ کا کُـچھ نہیں بـگاڑ سـکـتـیں کیونکہ قُـرآنِ مجید میں ارشـاد ہـے کـہ تُـمہارا رب بہـترین چـال چلنـے والا ہـے 🫀🥹

*✨ یومِ عاشُـوراء کا روزہ 🌙*
یومِ عاشُـوراء 10 محرم کا روزہ
نبی کریم ﷺ نے اس دن کے روزے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی اور فرمایا
*"مُجھے اللّہ سے اُمید ہے کہ عاشُـوراء کے دن کا روزہ گُـزشتہ ایک سال کے گُـنـاہوں کا کفارہ بن جائے گا"*
اللّہ تعالیٰ ہمارے روزے اور دُعائیں اور نیک اعمال قبُول فرمائے آمین🥹🤲




Ap Log Ase Kia Bolty Ho






ڈیپنڈنٹ پرسنالٹی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔
پرورش اور تربیت کا ایسے ہو جانا کہ۔۔ والدین بچے کو خود فیصلے کرنے نہ دیں۔۔
جب کسی انسان کا بچپن میں کانفیڈنس develop ہی نہ ہو تو ایسی شخصیت نکل آتی ہے۔۔
جب بچہ یہ سیکھ جاتا ہے کہ "میں خود کچھ نہیں کر سکتا"
ماضی کے تکلیف دہ واقعات
جیسے فوتگی یا طلاق کی وجہ سے بچوں اکیلے رہ جائیں، تب بھی بڑھے ہو کر ان کی شخصیت ایسے بن سکتی ہے


دن بھر کی تھکن کے بعد رات کا اندھیرا اور نیند کا سکون اللہ کی طرف سے رحمت ہے۔
اگر نیند نہ ہوتی تو جسم اور روح تھک کر بوجھل ہو جاتے۔ ہر سوتے وقت دل سے ایک "الحمدللہ" ضرور کہیں۔


*ہم مستقبل کے بارے میں اتنا سوچتے ہیں کہ اکثر آج کا سکون بھی کھو دیتے ہیں*
کیا ہوگا؟
کیسے ہوگا؟
اور اگر ایسا نہ ہوا تو؟
یہ سوالات ذہن کو تھکا دیتے ہیں،
کل ابھی آیا ہی نہیں، مگر ہم آج ہی اس کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔
مومن کی طاقت یہ نہیں کہ اسے پریشانیاں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے۔
جس اللہ نے آپ کو پیدا کیا،
آپ کی ضروریات جانتا ہے،
آپ کے دل کے راز جانتا ہے،
اور آپ کا نصیب بھی اسی نے لکھا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ کوشش کے بعد دل کو فکر کے حوالے نہ کرے، بلکہ اللہ کے حوالے کر دے۔
بعض اوقات سکون مسائل کے حل سے نہیں آتا، بلکہ اس یقین سے آتا ہے کہ میرا رب میرے معاملات مجھ سے بہتر سنبھال سکتا ہے۔


آپ کی قدر لوگوں کی رائے سے کم یا زیادہ نہیں ہوتی۔
جو شخص اپنی خوبیوں، اپنی محنت اور اپنی نیت کو جانتا ہے، وہ دوسروں کی منظوری کا محتاج نہیں رہتا۔
جتنا زیادہ ہم دوسروں سے توقعات باندھتے ہیں، اتنا ہی زیادہ دل ٹوٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اور جتنا زیادہ ہم اپنی قدر خود پہچانتے ہیں، اتنا ہی زیادہ سکون نصیب ہوتا ہے۔
اس لیے آج رات خود پر ایک احسان کرو۔۔
لوگوں کے رویّوں کو دل پر نہ لو۔
اپنی فکریں اللہ کے سپرد کرو۔۔
چل سو جاو شاباش 😊

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندگی کا ہر وہ لمحہ جو آپ کو خلوص دل سے لمبا سجدہ کرنا سکھا دے اور ہر وہ آزمائش جو آپ کو اس فانی دنیا سے دور کر کے اس پاک ذات کے بہت بہت زیادہ قریب کر دے
اگر تو ایسا ہو جائے تو ما شاءاللہ یہ آپ پر پیارے اللہ رب العالمین کا بہت بہت زیادہ والا خاص کرم ہے یہ آپ پر پیارے اللہ رب العالمین کا بہت بہت زیادہ والا فضل ہے
آپ سمجھ لیجیے کہ پیارے اللہ رب العالمین نے آپ کو بہت بہت عظیم نعمت سے نواز دیا ہے


خالد ایک صاف دل اور خوش مزاج انسان تھا۔ جہاں جاتا، لوگوں کو ہنسا دیتا۔ کسی کا کام ہو تو فوراً مدد کے لیے کھڑا ہو جاتا۔
مگر ایک وقت ایسا آیا کہ زندگی نے اسے سخت آزمائش میں ڈال دیا۔ گھر کے مسائل، مالی پریشانیاں، اور دل کے کچھ زخم... سب ایک ساتھ اس کے حصے میں آ گئے۔
عجیب بات یہ تھی کہ جو لوگ روز اس سے ملتے تھے، انہیں کچھ پتا ہی نہیں تھا۔ وہ اب بھی مسکراتا تھا۔ اب بھی دوسروں کو حوصلہ دیتا تھا۔ اب بھی پوچھتا تھا: "آپ سنائیں، سب خیریت ہے؟"
ایک دن ایک دوست نے ہنستے ہوئے کہا "خالد! یار تمہاری زندگی تو بڑی مزے میں گزر رہی ہے۔ تمہیں کبھی پریشان نہیں دیکھا۔"
خالد صرف مسکرا دیا۔ اس رات وہ اکیلا بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا "یا اللہ! لوگوں کو میری مسکراہٹ نظر آتی ہے، میرا بوجھ صرف تُو جانتا ہے۔"
وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک دن اس کے ایک قریبی دوست کو اس کی آزمائشوں کا پتا چلا۔ وہ حیران رہ گیا۔
اس نے کہا "خالد! تم نے کبھی بتایا کیوں نہیں؟"
خالد نے پیار سے جواب دیا "ہر جنگ چیخ چیخ کر نہیں لڑی جاتی۔ کچھ جنگیں انسان خاموشی سے لڑتا ہے، اور ان میں صرف اللہ اس کا ساتھی ہوتا ہے۔"🥹

میں اس میں ایڈ کرنا چاہونگا۔۔
بے وقوف سے بحث نہ کریں۔۔ کیونکہ دو منٹ بعد پتہ نہیں چلے گا۔۔ کہ بے وقوف وہ ہے یا آپ۔۔
ہاں جینئیس بندوں کے ساتھ باتیں ڈسکس کیا کریں، تمھارا اپنا دماغ کھلتا جائیگا۔۔


*ہم مستقبل کے بارے میں اتنا سوچتے ہیں کہ اکثر آج کا سکون بھی کھو دیتے ہیں*
کیا ہوگا؟
کیسے ہوگا؟
اور اگر ایسا نہ ہوا تو؟
یہ سوالات ذہن کو تھکا دیتے ہیں،
کل ابھی آیا ہی نہیں، مگر ہم آج ہی اس کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔
مومن کی طاقت یہ نہیں کہ اسے پریشانیاں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے۔
جس اللہ نے آپ کو پیدا کیا،
آپ کی ضروریات جانتا ہے،
آپ کے دل کے راز جانتا ہے،
اور آپ کا نصیب بھی اسی نے لکھا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ کوشش کے بعد دل کو فکر کے حوالے نہ کرے، بلکہ اللہ کے حوالے کر دے۔
بعض اوقات سکون مسائل کے حل سے نہیں آتا، بلکہ اس یقین سے آتا ہے کہ میرا رب میرے معاملات مجھ سے بہتر سنبھال سکتا ہے۔