@malik_hamza_awan
May 2026 · 2mo ago

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا
جس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھا
صرف تیری چپ نے میرے گال گیلے کر دئے
میں تو وہ ہوں جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا
مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا
میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا نہ تھا
میں نے اس کے وصل میں بھی ہجر کاٹا ہے کہیں
وہ مرے کاندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا نہ تھا
پیار تو پہلے بھی اس سے تھا مگر اتنا نہیں
تب میں اس کو چھو تو لیتا تھا مگر روتا نہ تھا
گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے
میری آنکھیں دیکھ لو میں وقت پر روتا نہ تھا

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا
جس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھا
صرف تیری چپ نے میرے گال گیلے کر دئے
میں تو وہ ہوں جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا
مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا
میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا نہ تھا
میں نے اس کے وصل میں بھی ہجر کاٹا ہے کہیں
وہ مرے کاندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا نہ تھا
پیار تو پہلے بھی اس سے تھا مگر اتنا نہیں
تب میں اس کو چھو تو لیتا تھا مگر روتا نہ تھا
گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے
میری آنکھیں دیکھ لو میں وقت پر روتا نہ تھا

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا
جس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھا
صرف تیری چپ نے میرے گال گیلے کر دئے
میں تو وہ ہوں جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا
مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا
میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا نہ تھا
میں نے اس کے وصل میں بھی ہجر کاٹا ہے کہیں
وہ مرے کاندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا نہ تھا
پیار تو پہلے بھی اس سے تھا مگر اتنا نہیں
تب میں اس کو چھو تو لیتا تھا مگر روتا نہ تھا
گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے
میری آنکھیں دیکھ لو میں وقت پر روتا نہ تھا

91 TREND...

AP SUB KA

KESA GUZAR RAHA DIN

BOOHAT SHUKRIYA

HAYEEEE DIL KHUSH

MISS JUTTSAHIBA THANKU APKA

کوئی کمرے میں آگ تاپتا ہو
کوئی بارش میں بھیگتا رہ جائے

THANK YOU AWP SUB KOO

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا

میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں
سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے

میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر
یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے

داستاں ہوں میں اک طویل مگر
تو جو سن لے تو مختصر بھی ہوں

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے
میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا

وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں
وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے
میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا

تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں
سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے

تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں
سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے

GANDI BAT

THANKU

SUCHI

GHALAT

اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے
کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے