@malik_hamza_awan
May 2026 · 2mo ago

MALIK

SUB MASROOF

میں نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے وہ میں وقت آنے پر کر جاؤں گا
تم مجھے زہر لگتے ہو اور میں کسی دن تمہیں پی کر مر جاؤں گا

اور پھر ایک دن بیٹھے بیٹھے مجھے اپنی دنیا بُری لگ گئی
جس کو آباد کرتے ہوئے میرے ماں باپ کی زندگی لگ گئی
سب سوالات ازبر تھے جو عشق کے باب میں مجھ سے پوچھے گئے
پر سفارش پہ اس محکمے میں کسی اور کی نوکری لگ گئی
کیا کروں اُس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا نہیں دیکھ سکتا تھا میں
آپ کہتے رہیں کہ غلط آدمی پر میری روشنی لگ گئی
اِس سے پہلے کہ میں اُس سے منہ پھیر لیتا اُسے خود خیال آ گیا
میں نے چینل بدلنے کا سوچا ہی تھا کہ صنم ماروی لگ گئی

اُسی نے دشمنوں کو با خبر رکھا ہوا ہے
یہ تونےجس کواپناکہہ کہ گھررکھاہواہے
مرےکاندھےپہ سررہنےنہیں دےگاکسی دن
یہی جس نےمرےکاندھےپہ سررکھاہواہے
یہ کس نے دی ہے مجھکو ہار جانے پر تسلی
یہ کس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا ہوا ہے
مسلسل رہ نہیں سکتا کسی ایک دل میں حافی
غریبوں کے نصیبوں میں سفر رکھا ہوا ہے

تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے
تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی
ڈر رہا تھا کہ کہیں زخم نہ بھر جائیں میرے
اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی
اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تیرے چہرے پر
تو کسی اور ہی ستارے کی چمک لائی تھی
تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونثِ جاں
کیا کروں میں کہ تو بولی ہی بہت کم مجھ سے
تیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نے
جیت جائے گا کسی روز تیرا غم مجھ سے
شہر آوازیں لگاتا تھا مگر تو چپ تھی
یہ تعلق مجھے کھاتا تھا مگر تو چپ تھی
وہی انجام تھا عشق کا جو آغاز سے ہے
تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھ کھونا تھا
چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے
یہی ہوتا تھا یہی ہو گا یہی ہونا تھا
پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے
اور میری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے
میں نے اندازے لگائے کہ سبب کیا ہو گا
پر میرے تیر ترازو ہی نہیں ہوتے تھے
جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے
پھر وہ خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا میں
جس کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل میں
میری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھی
تجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتا ۔۔
میں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہے
میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے
میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے
میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے
میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی
میں تو وہ تھا کہ جسے یاد نہیں کرتا کوئی
خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہے؟؟
تو نے چاہا تھا جسے وہ تیرے نزدیک تو ہے
کون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سے
آجکل پھر تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے

ذہن سے یادوں کے لشکر جا چُکے
وہ میری محفل سے اُٹھ کر جا چُکے
میرا دِل بھی جیسے پاکستان ہے
سب حکومت کر کے باہر جا چُکے

میرے دل میں یہ تیرے سوا کون ہے
تونہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے؟
کیا کہوں دین و دُنیا سے دِل اُٹھ گیا
میرے پہلوسے اُٹھ کے گیا کون ہے
ہم مُحبت میں ہارے ہوئے لوگ ہیں
اور مُحبت میں جیتا ہوا کون ہے؟
تو نے جاتے ہوئے یہ بتایا نہیں
میں تیرا کون ہوں تو میرا کون ہے؟

موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیں
زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیں
ہم مچھیروں سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ عفریت ہے
تم نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں
اس نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا
اس کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں
دشت غربت میں میں اور مرا یار شب زاد باہم ملے
یار کے پاس جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھڑیاں کھول دیں
کچھ برس تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی
اور پھر میں نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں
اس نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے
اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں
آج ہم کر چکے عہد ترک سخن پر رقم دستخط
آج ہم نے نئے شاعروں کے لیے بھرتیاں کھول دیں

موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیں
زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیں
ہم مچھیروں سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ عفریت ہے
تم نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں
اس نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا
اس کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں
دشت غربت میں میں اور مرا یار شب زاد باہم ملے
یار کے پاس جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھڑیاں کھول دیں
کچھ برس تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی
اور پھر میں نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں
اس نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے
اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں
آج ہم کر چکے عہد ترک سخن پر رقم دستخط
آج ہم نے نئے شاعروں کے لیے بھرتیاں کھول دیں

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا
جس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھا
صرف تیری چپ نے میرے گال گیلے کر دئے
میں تو وہ ہوں جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا
مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا
میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا نہ تھا
میں نے اس کے وصل میں بھی ہجر کاٹا ہے کہیں
وہ مرے کاندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا نہ تھا
پیار تو پہلے بھی اس سے تھا مگر اتنا نہیں
تب میں اس کو چھو تو لیتا تھا مگر روتا نہ تھا
گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے
میری آنکھیں دیکھ لو میں وقت پر روتا نہ تھا

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا
جس جگہ بنتا تھا رونا میں ادھر روتا نہ تھا
صرف تیری چپ نے میرے گال گیلے کر دئے
میں تو وہ ہوں جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا
مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا
میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا نہ تھا
میں نے اس کے وصل میں بھی ہجر کاٹا ہے کہیں
وہ مرے کاندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا نہ تھا
پیار تو پہلے بھی اس سے تھا مگر اتنا نہیں
تب میں اس کو چھو تو لیتا تھا مگر روتا نہ تھا
گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے
میری آنکھیں دیکھ لو میں وقت پر روتا نہ تھا

NARAZ HAIN KIYA MUJH SEE

KIYA HOO RAHA

KAISE HO SUB

ASSALAM O ALAIKUM

Q NAHI KARTY BAT

KOI BAT NA KARTA

AB BATAO KIS KIS KOO JHAPPI CHAHIYEE

WOOOOW

AOOO SUNAON😂

THANK U

Ooor

WALLAH

KIYA HO RAHA