@khurram_shah1
Apr 2026 · 3mo ago

پیہم تلاش جاری ہے اس دل کی در بدر
یعنی کہ میرا دل ہے مرے پاس ہی نہیں
کیسے لبھے گا وہ بت نازک شب وصال
کیا ڈالیے کہ پاس کوئی گھاس ہی نہیں

یوں پی رہا ہوں جیسے کوئی پیاس ہی نہیں
ساغر ہمارے دل کو ذرا راس ہی نہیں
میں یوں ہی جی رہا ہوں تری کائنات میں
مجھ کو تو زندگی سے کوئی آس ہی نہیں

مرے وجود سے شاید ملے سراغ ترا
کبھی میں خود کو ترے واسطے تلاش کروں
میں چپ رہوں کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسنؔ
اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں

غزل کہوں کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو
اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں

تجھے حواس کی آوارگی کا علم کہاں
کبھی میں تجھ کو ترے سامنے تلاش کروں

Points kyun khatam kr diye

میں چپ رہوں کبھی بے وجہ ہنس پڑوں
اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں

مرے وجود سے شاید ملے سراغ ترا
کبھی میں خود کو ترے واسطے تلاش کروں

تجھے حواس کی آوارگی کا علم کہاں
کبھی میں تجھ کو ترے سامنے تلاش کروں
غزل کہوں کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو
اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
میں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اتر
ترے لیے میں کہاں آئنے تلاش کروں

چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے
تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

پروں کو توڑتے جاتے ہیں جو سبھی طائر
اسی میں حسرت پرواز کا تعاقب ہے
نہ ہو سکی ہے کسی سے بھی ناز برداری
سنا ہے انجمن ناز کا تعاقب ہے

ابھی تو محضر ہو کی بھی جستجو نہ ہوئی
ابھی سے دیدۂ غماز کا تعاقب ہے
جو پاک دامن و عصیاں سرشت ہیں برہم
یہ حسن تفرقہ پرداز کا تعاقب ہے
ہے گفتگوئے من و تو کا اک تجسس بھی
کہیں اشارۂ ہم راز کا تعاقب ہے

فرشتے بھی مری تخلیق کے مخالف تھے
ہمیشہ سے مرے آغاز کا تعاقب ہے
مرے جنون مسلسل کی فکر مت کرنا
ابھی تری نگہ ناز کا تعاقب ہے

مرے ترانے مرے ساز کا تعاقب ہے
یہ نسل نو کی ہی آواز کا تعاقب ہے
پتہ نہیں تھا وہ آواز میری اپنی تھی
اور عرصے سے اسی آواز کا تعاقب ہے

بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز
دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اٹھتا ہے

یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد اپنے اجداد بیچ دے گی
جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے
سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں اب دور ہو رہی ہیں
رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے دھندھ چھٹ رہی ہے

میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا
سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے
مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے
عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں
عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے


اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا
سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم

السلام علیکم