@khurram_shah1
Apr 2026 · 3mo ago

نہ اختلاط میں وہ رم
کہ بد مزہ ہوں خواہشیں
نہ اس قدر سپردگی
کہ زچ کریں نوازشیں
نہ عاشقی جنون کی
کہ زندگی عذاب ہو
نہ اس قدر کٹھور پن
کہ دوستی خراب ہو

نہ ایسی خوش لباسیاں
کہ سادگی گلہ کرے
نہ اتنی بے تکلفی
کہ آئنہ حیا کرے

نہ مدتوں جدا رہے
نہ ساتھ صبح و شام ہو
نہ رشتۂ وفا پہ ضد
نہ یہ کہ اذن عام ہو

کوئی بھی رت ہو اس کی چھب
فضا کا رنگ روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی
وہ سردیوں کی دھوپ تھی

نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے

بھلے دنوں کی بات ہے
بھلی سی ایک شکل تھی
نہ یہ کہ حسن تام ہو
نہ دیکھنے میں عام سی

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو

بھلے دنوں کی بات ہے
بھلی سی ایک شکل تھی
نہ یہ کہ حسن تام ہو
نہ دیکھنے میں عام سی
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
کوئی بھی رت ہو اس کی چھب
فضا کا رنگ روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی
وہ سردیوں کی دھوپ تھی

نام میرا یاد کرکے چسکیوں کے بیچ میں
کیا ہوئی ہے چائے کے کپ میں ترے ہلچل کبھی

چائے پینا تو اک بہانہ تھا
آرزو دل کی ترجمانی تھی

چائے کے ایک کپ کا یہی ہے معاوضہ
یاروں کو عہد رفتہ کے قصے سنائیے

شام کی چائے کا وعدہ وہ ادھر بھول گئے
ہم ادھر صبح سے تیار ہوئے بیٹھے ہیں

نہیں ہے گھر میں تری یاد کے علاوہ کچھ
تو کس کے سامنے چائے بنا کے رکھتی ہوں

ٹھنڈی چائے کی پیالی پی کے
رات کی پیاس بجھائی ہے

شاعری چائے تری یاد چمکتے جگنو
بس یہی چار طلب روز مری شام کے ہیں

پھر کہیں بیٹھ کے پی جائے اکٹھے چائے
پھر کوئی شام کا پل ساتھ گزارا جائے

چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی
سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی

میں نے پوچھا ہے کہ چائے کے لیے وقت کوئی
ہنس کے بولی ہے اشارے سے گھڑی ٹھیک نہیں

آ ترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے
زندگی بیٹھ تجھے چائے پلائی جائے

تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی
دل کا رنج تو دل میں رہا تھا

چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے
در حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا

آ میرے ساتھ بیٹھ مرے ساتھ چائے پی
آ میرے ساتھ میرے دلائل پہ بات کر

شام کی چائے ان کے ساتھ پیوں
دل کی حسرت بہت پرانی ہے

چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارا تھا

آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا
آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے