@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

یہاں تہذیب بکتی ہے یہاں فرمان بکتے ہیں ذرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

یہاں کوئی کسی سے خوش نہیں ہوتا سکتا کسی کے لیے جان بھی دے دو تو کہتے ہیں اس کی زندگی ہی اتنی تھی

یہاں لوگ اپنے دکھ سے اتنے پریشان نہیں ہیں جتنا کہ دوسروں کے سکھ سے ہیں

یہاں مزدور کو مرنے کی جلدی یوں بھی ہے کہ زندگی کی کشمکش میں کہیں کفن مہنگا نہ ہو جائے

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے

یہاں مفاد عزیز ہے ہر اک کو کوئی ہنس دے تو ہنس لیتے ہیں اور کوئی رو دے تو رو لیتے ہیں مفاد میں

یوں تو غلط نہیں ہوتے انداز چہروں کے لیکن لوگ ویسے بھی نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں

یوں تو ہر شخص احترام سے ملتا ہے مگر اپنے کام سے ملتا ہے

یوں غلط تو نہیں چہروں کا تاثر بھی مگر لوگ ویسے بھی نہیں جیسے نظر آتے ہیں

ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے یہ وہ وفات ہے جس کی خبر نہیں ہوتی

قدر تو وہ ہوتی ہے جو کسی کی موجودگی میں ہو جو کسی کے بعد ہو اسے پچھتاوا کہتے ہیں

بے حسی شرط ہے جینے کیلئے اور ہم کو احساس کی بیماری ہے

چھپے چھپے سے رہتے ہیں سرعام نہیں ہوتے کچھ رشتے صرف احساس کے ہوتے ہیں ان کے نام نہیں ہوتے

فقدان ہے اس جہاں میں مخلصی کا احتیاط کیجیے اب تعلقات میں

جہاں احساس کی قدر نہ ہو وہاں الفاظ بھی کام نہیں آیا کرتے

تعلقات کی بنیاد احساس ہے اور احساس ہمیشہ وہی کرتا ہے جو خود غرض نہیں ہوتا

اس توجہ کا کوئی فائدہ نہیں جو کسی کو احساس دلا کے حاصل ہو

میں بھی انسان ہوں احساس کر میرا بھی دل ہے کچھ تو خیال کر

آج کہ دور میں زیادہ ہمدردی بھی شک کا باعث بن جاتی ہے

اگر انسان کے اندر کسی دوسرے کی تکلیف کا احساس ختم ہوجائے تو وہ مردے سے بدتر ہے

احساس کے ترجمے نہیں ہوتے انہیں صرف محسوس کیا جاتا ہے

احساس کے ترجمے نہیں ہوتے انہیں صرف محسوس کیا جاتا ہے

جب تک خود پر نہیں گزرتی احساس اور جذبات مذاق لگتے ہیں

میرے دل کی امیدوں کا حوصلہ تو دیکھ انتظار اس کا ہے جسے میرا احساس تک نہیں

رشتے اور تعلق نبھانا ایک فن ہے جس کے لئے دولت کی نہیں محض احساس کی ضرورت ہوتی ہے