@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

نہ جانے کیا کمی رہ گئی ہمارے اخلاق میں دل کو جتنا بھی صاف رکھا اتنا ہی ہمیں ستایا زمانے نے

نہ کوئی دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے

نوجوان اور گھوڑے دونوں جنگوں کی شان ہوا کرتے تھے آج دونوں ہی شادیوں میں ناچتے نظر آتے ہیں

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے سلیقہ جن کو سکھایا تھا ہم نے چلنے کا وہ لوگ آج ہمیں دائیں بائیں کرنے لگے

ہر انسان اپنا عروج اور دوسرے کا زوال دیکھنا چاہتا ہے

ہر انسان سکون کی تلاش میں ہے کسی دوسرے کا سکون تباہ کر کے

ہر ایک شخص نے اٹھایا ہوا ہے آئینہ جس میں دیکھتا ہے فقط کردار دوسروں کا

ہر چیز مہنگی لیکن ماچس آج بھی دو روپے کی مل جاتی ہے یاد رکھیں آگ لگانے والوں کی قیمت کبھی نہیں بڑھتی

ہر شخص نے پرکھا ایسے سارے امتحان ہم پر فرض ہوں جیسے

ہر قدم سنبھل کر رکھنا یاروں کہ منتظر ہے یہ دنیا کسی بہانے کی

ہر کسی کو اپنا مت سمجھا کرو لوگ دل اور بھروسہ جلدی توڑ دیتے ہیں

ہر کسی کے متعلق مت سوچو کیونکہ ہر کوئی آپ کے متعلق نہیں سوچتا

ہر کوئی مارنے کے لیے پتھر نہیں اٹھاتا کچھ لوگ یہ کام لہجوں سے بھی کرلیتے ہیں

ہر وقت نیا چہرا ہر وقت نیا وجود انسان نے شیشے کو حیرت میں ڈال دیا

ہم اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں فرق نہیں پڑتا لوگ کیا سوچتے ہیں

ہم اس بدنصیب معاشرے کا حصہ ہیں جہاں حسن کا معیار گورا رنگ اور عقل کا معیار انگریزی زبان ہے

ہم اس بستی میں رہتے ہیں جہاں لوگ تیرے منہ پر تیرے ہیں میرے منہ پر میرے ہیں

ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ڈرامے دیکھ کر لوگ روتے ہیں اور حقیقت دیکھ کر کہتے ہیں سب ڈرامہ ہے

ہم بھی بادشاہوں کے بادشاہ ہیں باتوں سے ذات اور حرکت سے اوقات پہچان لیتے ہیں

ہم پلٹتے نہيں اب بے جان كتابوں كا ورق ہم وه پڑهتے ہيں جو چہروں پہ لكها ہوتا ہے

ہم جیسے معصوموں سے بھی کر گئے دنیا داری لوگ

ہم خود کہتے ہیں ہم اچھے نہیں پھر کیوں جلتی ہے دنیا ہم سے

ہم زبان اور ضمیر کے پکے ہیں صاحب لوگوں کی طرح حالات دیکھ کر رنگ نہیں بدلتے

ہم زندہ کو ایک روٹی تک نہیں دیتے لیکن مردوں کے نام پر دیگیں تقسیم کرتے ہیں