@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

زندگی تو سستی ہے
گزارنے کے طریقے مہنگے ہیں

موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں

مجھے انتظار ہے زندگی کے آخری پنوں کا
سنا ہے آخر میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے

اگر کوئی پوچھے زندگی کیا ہے
ہاتھ پہ رکھ کے اک شمع جلا دینا

زندگی کا سفر ہے اتنا کہ
ایک ہچکی اور انسان ختم

یہ زندگی ہے
الجھے گی نہیں تو سلجھے گی کیسے؟
بکھرے کی نہیں تو نکھرے گی کیسے؟

کسی کی زندگی میں اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنا
اس کی قبر پر فاتحہ پڑنے سے ہزار درجے بہتر ہے

معاشرے میں رہنے سے نہیں معاشرے کے طریقوں سے تکلیف ہے

لوگوں کی رویوں کا زہر چکھ کر وہیں پر تھوک دیں نہیں تو آہستہ آہستہ آپ کو ڈپریشن کا مریض بنا دے گے

مقرر کر دیے جاتے ہیں سودا سلف لانے پر میری بستی کے بوڑھے جب کمانا چھوڑ دیتے ہیں

ملاوٹ کا دور ہے ہاں میں ہاں ملا دیا کرو

منزلوں سے گمراہ کردیتے ہیں لوگ ہر کسی سے راستہ پوچھنا اچھا نہیں ہوتا

موت برحق ہے مگر میری گزارش یہ ہے زندہ انسانوں کا جنازہ نہ اٹھایا جائے

موت دیکھتی ہی رہ گئی اپنوں نے ہی مجھے مار دیا

موجود دور میں محبتوں کا اظہار جنازوں پر کیا جاتا ہے

موجودگی کی قدر نہیں کسی کو تصویریں دیکھ کر روتے ہیں لوگ

موجودہ دور میں محبتوں کا اظہار جنازوں پہ کیا جاتا ہے

میں نے بہت قریب سے دیکھے ہیں دل میں زہر رکھتے ہوئے شہد اُگلتے لوگ

میں نے پھل دیکھ کے انسانوں کو پہچانا ہے جو بہت میٹھے ہو اندر سے سڑے ہوتے ہیں

میں نے تھوڑی سی روشنی مانگی تھی میرے اپنوں نے آگ ہی لگا دی

میں نے دیکھا ہے دنیا کو میں نے پرکھا ہے لوگوں کو کون کب تک ساتھ دے گا دوسرا ملنے پر چھوڑ دے گا

میں نے لوگوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیا ہے کیونکہ لوگ وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں

نا جانے کتنے رشتے ختم کر دیے اس وہم نے کہ میں صحیح ہوں اور صرف میں ہی صحیح ہوں

نا قدری کرنے والوں کو اپنا سایہ تک میسر نہ ہونے دیں پھر چاہے وہ روئیں چیخیں چلائیں یا پھر مر جائیں

نہ بلاؤ تو بلاتا ہی نہیں ہے کوئی جس کو دیکھو وہ اناؤں میں گھرا رہتا ہے